غلبہء حق — Page 40
۴۰ کا دروازہ کھلا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ حضور کی ظلی نبوت بھی دراصل مومیت الہی ہے نہ کسی امریس مسیح موعود کی نبوت اور پہلے انبیاء کی نبوت میں صرف اس موہت کے ذریعہ حصول میں فرق ہے نہ کہ نفس ہوت ہیں۔پس فاروقی صائب کا یہ کہنا باطل ہے کہ جس شخص کا تزکیہ کسی انسان کی پیروی سے ہوا ہے اس میں چونکہ اکتساب کا رنگ آ گیا ہے اس لیے اسے بنی نہیں کہہ سکتے۔کہ اس کا نور آفتاب کے نور کی طرح اصلی نہیں کیا جا سکتا بلکہ وہ خود عکس ہوتا ہے جیسے چاند کا نور د فتح حق صت) حضرت اقدس نے مسیح موعود اور نبی اللہ کا بلند مقام بے شک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں اور کسی طور پر حاصل کیا ہے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی بذریعہ آپ کے خاتم النبیین ہونے کے مسیح موعود نبی اللہ کے لیے صرف شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔ورنہ مسیح موعود نبی اللہ کا مقام آپ نے خدا تعالٰی کے فضل سے حاصل کیا ہے۔کسی طور پر۔چنانچہ حضرت اقدس خود تحریر فرماتے ہیں :- ہ میں نے محض خدا کے فضل سے نہا اپنے کسی مہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نہیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی اور میرے لیے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر میں اپنے سید و مولی فخر الانبیاء خیر امور کی حضرت مصطفے کی راہوں کی پیروی نہ کرتا۔(حقیقة الوحی ص )