غلبہء حق

by Other Authors

Page 284 of 304

غلبہء حق — Page 284

۲۸۴ اس کے متعلق فاروقی صاحب لکھتے ہیں۔کہ یہ صلحت بعد میں حقیقت بن گئی۔۱۹۵۳ء میں فرقہ احمدیہ کے خلاف مغربی پاکستان میں اینی میشن شروع ہو ۵۳ اور فسادات ہوئے اور بعد میں مارشل لا بھی لگایا گیا۔(فتح حق شاہ) حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی یہ عبارت اپنے مضمون میں صاف ہے کہ آپ اپنی خلافت کے ایام میں بھی حضرت مسیح موعود کو ظلی نبی ہی مانتے تھے ہاں آپ کا عقیدہ یہ تھا کہ ظلی نبی بھی ایک قسم کا بنی ہی ہوتا ہے۔گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر تے ہوئے انھیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہ دنیا ہی کافی تھا۔مگر چونکہ غیر مبائعین اس زمانہ میں حضرت اقدس کے درجہ کو گھٹا کر پیش کرتے تھے اس لیے مصلحت وقت کا تقاضا یہی تھا کہ آپ کی نبوت کی حیثیت بار بار پیش کی جائے تا جماعت آپ کے صحیح مقام سے آگاہ ہو جائے اور لا ہوگی فریق کی پیدا کردہ غلط فہمیوں میں مبتلا نہ ہو۔ورنہ مصلحتاً نبی کے لفظ کو کسی اور پیرائے میں بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود اپنا ایک الهام یوں درج فرماتے ہیں :- دنیا میں ایک نبی آیا مگر دنیا نے اسے قبول نہ کیا۔" اور اس پر یہ نوٹ دیتے ہیں :- ایک قرأت اس الہام کی یہ بھی ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا یہی قرأت براہین میں درج ہے اور فتنہ سے بچنے کے لیے یہ دوسری قرأت درج نہیں کی گئی۔تذکرہ من الجواله مكتوب ، راگست ششماهم مندرج الحكم ، ابراگست شد اوصت حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنبیہ اس لفظ کے کثرت استعمال سے