غلبہء حق — Page 262
۲۶۲ کس قدر ترقی کرتے ہو اور کیسے کامیاب ہوتے ہو۔۔۔۔مجھے ضرورتاً کچھ کہنا پڑا ہے۔اس کا میرے ساتھ وعد ہے کہ میں تمھارا ساتھ دونگا۔مجھے دوبارہ بیعت لینے کی ضرورت نہیں۔تم اپنے پہلے وعدہ پر قائم رہو ، ایسا نہ ہو کہ نفاق میں مبتلا ہو جاؤ۔۔۔۔۔۔جلد بازی سے کوئی فقرہ منہ سے نکالنا آسان ہے مگر اس کا نکلنا بہت مشکل ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تمہاری نسبت نہیں، بلکہ اگلے خلیفہ کے اختیارات کی نسبت بحث کرتے ہیں۔مگر تمھیں کب معلوم کہ وہ ابو بکر اور مرزا صاحب سے بھی بڑھ کر آئے۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے ایک دفعہ شیخ صاحب نے کہا تھا کہ میں نے یہاں سکونت اختیار کرلی ہے۔میں تمھاری نگرانی کرونگا تو میں نے کہا تھا قسم اللہ دو فرشتے میرے نگہبان پہلے ہی سے مقرر ہیں۔ایک تم آگئے۔میں آج کے دن ایک کام کرنے والا تھا۔مگر خدا تعالیٰ نے مجھے روک دیا۔اور میں اس کی مصلحتوں پر قربان ہوں۔۔۔۔۔۔۔میں ایسے لوگوں کو جماعت سے الگ نہیں کرتا کہ شاید وہ سمجھیں۔پھر سمجھے جائیں۔پھر سمجھے جائیں۔ایسا نہ ہو کہ میں ان کی ٹھوکر کا باعث بنوں۔میں اخیر میں پھر کہتا ہوں کہ آپس میں تباغض ونتخاب کا رنگ چھوڑ دو۔کوئی امر امن کا یا خون کا پیش آجاد ہے