غلبہء حق — Page 250
۲۵۰ پس ہم فاروقی صاحب کو بھی رہی جواب دیتے ہیں جو جواب حضرت خلیفہ اسح الاول نے اظہار الحق ، لکھنے والے کو دلوایا تھا۔معترض نے قدرت ثانیہ کے دائمی ہونے کی وجہ سے انکار خلافت کیا تھا۔اس کے جواب میں خلافت احمدیہ کے جڑ پر لکھا گیا۔ور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اور میرے بعد بعض اور وجود ہونگے جو دوسری قدرت کا مظہر ہونگے۔کے کیا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قدرت ثانیہ سے مراد جمہوری طاقت نہیں بلکہ بعض افراد کی طاقت ہے اور ان کی نسبت آپ نے خود لکھ دیا ہے کہ وہ خلفاء ہونگے " صلا اظہار الحق کے جواب میں جس میں میں اعتراضات حضرت خلیفہ اسیح الاول کی مخلافت کے خلاف درج تھے۔انصار اللہ نے رسالہ " اطرا حقیقت لکھا : یہ وہ ریشہ دوانیاں میں جو حضرت خلیفہ المسیح الاول کے زمانہ میں خلافت کے مخالفین نے شروع کر دی تھیں۔اس وقت تو مولوی محمد علی صاحب نے بھی پیغام صلح لاہور کے اس مضمون کو نا پسند کیا تھا اور لکھا تھا کہ اس تحریر میں خلیفہ اسی کی شان میں نہایت نامناسب اور بے ادبی کے الفاظ تھے۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں کہ :- ر میں صدر انجمن احمدیہ کے سیکرٹری ہونے کی حیثیت سے اپنے پانچ سالہ تجربہ کی بنا پر کہ سکتا ہوں کہ جن امور میں آپ ر خلیفہ اسیح ناقل حکم دیتے۔تو کوئی انکار کرنے والا نہ تھا۔آپ نے ہمیشہ معاملات کو مشورہ احباب کے سپرد کیا "