غلبہء حق — Page 220
۲۲۰ تھا پس میری نسبت یہ پیش گوئی تھی کہ تمھیں بھی بعض قوم کے قریب لوگوں سے قطع تعلق کرنا پڑے گا۔چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا " پس پیش گوئی حضر ت تخلیفہ المسیح الثانی مصلح موعود کے دعوئی بلکہ خلافت سے پہلے ہی پوری ہو چکی تھی۔یه برا همین احمدیہ حصته چهارم شاد میں شائع ہوئی ہے جس میں یہ الساعات درج ہیں مگر مصلح موعود کی پیش گوئی ۲۰ فروری شاہ کو کئی گئی اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اس پیشگوئی کے مطابق بموجب وعدہ الٹی اسہال کے عرصہ میں ۱۲ جنوری شہداء میں پیدا ہوئے گویا اس وقت حضرت مسیح موعود کی مبشر اولاد ہی سے کوئی وجود میں ہی نہیں آیا تھا۔جسے غیر صالح قرار دیا جاتا۔اس الهام میں دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نور کہ کر نہیں بلکہ ابراہیم قرار دیکر ایک عید غیر صالح سے اعراض کی ہدایت کی گئی ہے۔اور ابراہیم آپ کو اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ آپ کے ہاں حضرت اسماعیل کی طرح ایک عظیم انسان موعود فرزند پیدا ہونے والا تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا :- يُخرج هَمُّهُ وَغَتُه دَرْحَةَ اسْمُعِيلَ نَاخْفِهَا حَتَّى يَخْرُجَ (تذكره مه ) ترجمہ : اس کا ریعنی مسیح موعود کا ناقل حتم اور غم اسماعیل کے درخت کو نکالے گا۔پس اس کو مخفی رکھ کر یہاں تک کہ وہ نکل آئے " اسماعیل کے معنی ہیں 'خدا نے تیری سُن لی۔اس میں اشارہ تھتھا کہ یہ اسماعیل آپ کی دعاؤں کے نتیجہ میں پیدا ہو گا۔فاختہا میں ہدایت تھی کہ اس کی تشریح نہ کریں کیونکہ در اصل واقعات اس کی پوری تشریح کرنے والے تھے۔چنانچہ