غلبہء حق — Page 216
وہ خدا کی طرف سے ہے۔یعنی خدا اگر نہ چاہتا تو یہ فتنہ پر پا کرنا اس کی مجال نہ تھا اور پھر فرمایا ” اس وقت دنیا میں بڑا شور اٹھی گا اور بڑا فتنہ ہوگا۔پس تجھ کو چاہیے کہ صبر کرے جیسا کہ اولوالعزم پیغمبر صبر کرتے رہے" ص" اس ترجمہ سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کے نزدیک اس فتنہ کا تعلق جو الہام میں مذکور ہے اس فتنہ سے تھا جو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی طرف سے حضرت اقدس کے خلاف فتوی کفر تیار کرنے پر سارے ملک میں اُٹھا تھا۔۔۔۔۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں :- اس سے پہلی پیشگوئی اس استفتاء کے بارے میں ہے جو مولوی محمد حسین کے ہاتھ سے اور مولوی نذیرین کے ہاتھ سے فتوی لکھنے سے ظہور میں آیا۔جس سے ایک دنیا میں شور اٹھا اور سب نے ہمارا تعلق چھوڑ دیا۔اور کافر اور بے ایمان اور دجال کہنا موجب ثواب سمجھا۔" ملا سے نہیں ہے۔اس الہام کا سیاق یہ ہے LGA NGO LOGANG GALANGAN الدَّارِ وا مَتَارُو الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ جَاءَ الحَقُّ وَزَهَقَ هذا الَّذِى كُنتُم بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ (تذکره (۲۲) ترجمه از مسیح موعود : میں ہر ایک کو جو اس گھر میں ہے نگاہ رکھوں گا۔اے مجر مو آج تم الگ ہو جا دستی آیا اور باطل بھاگ گیا۔یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم جلد می کرتے تھے۔پہلے الہام میں دار المسیح میں رہنے والوں کے طاعون سے محفوظ