غلبہء حق

by Other Authors

Page 167 of 304

غلبہء حق — Page 167

196 اس بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وعد دے دیا گیا تھا کہ پیسر موعود یعنی مصلح موعود نو سال کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا تو صاف ظاہر ہے کہ اس وعدہ الہی کے مطابق نو سال کے عرصہ میں حضور کے گھر میں پیدا ہونے والے لڑکوں میں سے ہی کوئی لڑکا مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہو سکتا تھا نہ کہ چوتھی صدی یا چوتھی نسل میں۔چنانچہ پیشنگوئی کے الفاظ یہ ہیں :- وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت نسل ہو گا یہ الفاظ بھی اس بات پر روشن دلیل ہیں کہ یہ لڑ کا آپ کا حقیقی فرزند ہوگا نہ کسی آئندہ نسل ہیں۔ہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جسمانی فرزندی کا رشتہ رکھنے کے ساتھ اس کی الہامی صفات یہ بھی بنائی گئی ہیں کہ وہ ایک بہت بڑا روحانی انسان بھی ہوگا۔پس جب پسر موعود کے لیے نو سال کی مدت میں ہی پیدا ہونا ضروری تھا تو اس کا چوتھی نسل میں انتظار تو سرا سر وعدہ اللہ کے خلاف ہے کیونکہ اس کے لیے پہلی نسل ہی میں پیدا ہونا ضروری تھا۔لہذا حضرت اقدس کی اس لڑکے کے جلد پیدا ہونے کی خواہش کسی اجتہاد کی بنا پہ نہ تھی جو غلط بھی ہو سکتا ہو بلکہ وعدہ الہی کے مطابق تھی جو غلط نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : " إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادُ (رعد ) یعنی خدا و عدہ خلافی نہیں کرتا۔پس جب نو سال میں پیدا ہونے والے لڑکوں میں سے ہی کوئی لڑکا مصلح موعود ہو سکتا تھا تو اس کے ظہور پر ہی اس پُر اسرار الہامی فقرہ کی حقیقت کہ وہ کس رنگ میں تین کو چار کرنے والا ہوگا" کھل سکتی تھی۔