غلبہء حق — Page 103
١٠٣ صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل عکس قرار دینے سے مراد ہی یہ سے کہ حقیقت کے لحاظ سے کامل درنہ ہر ولی اور مجدد و محدت اپنے اپنے زمانہ اور اپنے اپنے دائرہ تجدید کی نسبت سے کامل عکس ہی رکھتا ہے جس طرح کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل تمام انبیاء اپنی اپنی قوم کے لیے کامل ہی تھے۔لیکن حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالمقابل وہ ناقص ہی تھے۔ٹھیک اسی طرح پہلے تمام اولیاء اپنے اپنے حلقہ کے لیے کامل عکس رکھنے والے ہی تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود کے مقابلہ میں ان کا حاصل کرده عکس ناقص ہی تھا۔حضور کا لیا ہو، عکس انتہائی حد تک پہنچ گیا۔جس انتہائی حد تک کسی امتی لیے اپنے نبی متبوع کی نبوت کا عکس لینا ممکن تھا۔اِس سے زیادہ کوئی اُمتی لے ہی نہیں سکتا۔روح اسلام ص ۳) پیس حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقیقت کے لحاظ سے کا مل نکلتی نبی ہوئے اور باقی تمام امت محمدیہ کے اولیاء جو آپ سے پہلے گزر چکے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ یکم کا نا قص عکس ہونے کی وجہ ناقص خلقی نبی یا جزو می ظلی نبی یا مجازی ظلی نبی ہوئے۔در حقیقت خالی بنی صرف مسیح موعود علیہ السلام ہی ہیں۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت اقدس کا غلطی کا ازالہ میں نبی کی بجائے محدثے قرار دینے سے انکار حضور پر اپنی نبوت کے متعلق نیا انکشاف ہونے کا واضح ثبوت ہے۔