غلبہء حق — Page 104
۱۰۴ ظلی نبوت توت ہی ہے اسی لیے حضرت اقدس نے اشتہار ایک غلطی کا ازالہ کے حاشیہ میں تحریر فرما یا : - یہ ضرور یا درکھو کہ اس امت کے لیے وعدہ ہے کہ وہ ہرایک ایسے انعام پائیگی جو پہلے نہیں اور صدیق پا چکے پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیش گوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔اس سے ظاہر ہے کہ اب حضرت اقدس کے نزدیک پہلے انبیاء کی وجہ سے نبی کہلاتے رہے ہیں اور بعض کا شریعت جدیدہ یا احکام لانا نبوت پر ایک زائد امر تھا۔آگے تحریر فرماتے ہیں:۔لیکن قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا درواز بند کرتا ہے جیسا کہ آیت لا يظهر على غيبه احداً الا من ارتضى من رسول سے ظاہر ہے۔پس مصفیٰ غیب پانے کے لیے بنی ہونا ضروری ہوا اور آیت انعمت علیہم گواہی دیتی ہے کہ اس مصفی غیب سے یہ امت محروم نہیں اور مصنفی غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور وہ طریق براہ راست بند ہے۔اس لیے ماننا پڑتا ہے کہ اس موہت کے لیے محض برد زاوار ظلیت اور فتا فی الرسول کا دروازہ کھلا ہے " اس عبارت سے مندرجہ ذیل امور روز روشن کی طرح ظاہر ہیں :-