غلبہء حق — Page 100
: کو بجائے فطستی یا مجازی نبی سمجھنے کے حقیقی کامل نبی کا درجہ دے دیا۔" رفتح حق مش ) فاروقی صاحب ! حضرت اقدس کا دعوی تو شروع سے یہی رہا ہے خدا نے آپ کو نبی اور رسول کیا ہے اور اس کی کیفیت کثرت مکالمہ مخاطبه البیہ مشتمل بر امور عینیہ کثیرہ ہے۔لہذا آپ کے اس دعویٰ میں تو واقعی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، لیکن نہی کی تادیل محدث کرنے میں آپ نے ضرور تبدیلی فرمائی تھی جیسا کہ ایک غلطی کا ازالہ کی مندرجہ بالا تحریر سے صاف ظاہر ہے۔پس جب تک آپ تعریف نبوت میں نبی کے لیے کسی دوسرے نبی کا امتی نہ ہونا ضروری سمجھتے رہے ، اس وقت تک اپنے الہامات میں نبی اور رسول کی تعریف محدث کرتے رہے اور جب اس تعریف نبوت میں تبدیلی فرمالی اور یہ سمجھ لیا اتنی بھی نبی ہو سکتا ہے تو آپ نے اپنے متعلق بنی اور رسول کی تاویل محدث کے لفظ سے کرنا ترک فرما دیا۔فاروقی صاحب ! ناقص ظلی نبی یا مجازی نبی تو ہر ایک محدت اور محدد ہوتا ہے اگر حضرت اقدس کی طلقی نبوت تمام سابقہ محدثین کے مقابل میں کامل درجہ کی نہ ہوتی تو پھر آپ غلطی کا ازالہ میں محض محدث ہونے سے انکار نہ فرماتے اور نہ حقیقۃ الوحی میں یہ لکھتے کہ تیرہ سو سال میں تمام اولیاء سابقین کے مقابلہ میں نبی کا نام پانے کے لیے آپ ہی مخصوص ہیں کیونکہ ان میں شرط ثبوت نہیں پائی گئی۔اور نہ حقیقۃ الوحی ص ۳۹ پر محولہ عبارت سے آگے یہ لکھتے اگر دوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں وہ۔بھی اس قدر مکالمه مخاطبہ الہیہ اور امور غیبیہ سے