فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 84 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 84

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام = 84 اقتدا کیا جائے تو نماز کے ادا ہو جانے میں مجھے شبہ ہے۔کیونکہ علانیہ طور پر ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے امامت کا ایک پیشہ اختیار کر رکھا ہے اور وہ پانچ وقت جا کر نماز نہیں پڑھتے بلکہ ایک دکان ہے کہ ان وقتوں میں جا کر کھولتے ہیں اور اسی دکان پر ان کا اور ان کے عیال کا گزارہ ہے چنانچہ اس پیشہ کے عزل و نصب کی حالت میں مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے اور مولوی صاحبان امامت کی ڈگری کرانے کیلئے اپیل در اپیل کرتے پھرتے ہیں۔پس یہ امامت نہیں یہ حرام خوری کا ایک مکر وہ طریقہ ہے۔کیا آپ بھی ایسے نفسانی پیچ میں پھنسے ہوئے نہیں۔پھر کیونکر کوئی شخص دیکھ بھال کر اپنا ایمان ضائع کرے۔مساجد میں منافقین کا جمع ہونا جو احادیث نبویہ میں آخری زمانہ کے حالات میں بیان کیا گیا ہے۔وہ پیشگوئی انہیں ملا صاحبوں سے متعلق ہے جو محراب میں کھڑے ہو کر زبان سے قرآن شریف پڑھتے اور دل میں روٹیاں گنتے ہیں۔" فرمایا:۔(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 25, 26 حاشیہ، مطبوعہ نومبر 1984 ء) (۱۰۶) اُجرت پر امامت شرعانا جائز ہے جو طریق آج کل پنجاب میں نماز کا ہے میرے نزدیک ہمیشہ سے اس پر بھی اعتراض ہے۔ملاں لوگ صرف مقررہ آدمیوں پر نظر کر کے جماعت کراتے ہیں ایسا امام شرعاً نا جائز ہے۔صحابہ میں کہیں نظیر نہیں ہے کہ اس طرح اُجرت پر امامت کرائی ہو۔پھر اگر کسی کو مسجد سے نکالا جاوے تو چیف کورٹ تک مقدمہ چلتا ہے یہاں تک کہ ایک دفعہ ایک ملا نے نماز جنازہ کی 4 یاسے تکبریں کہیں لوگوں نے پوچھا تو جواب دیا کہ یہ کام روز مرہ کے محاورہ سے یادر ہتا ہے۔کبھی سال میں ایک آدمی مرتا ہے تو کیسے یادر ہے۔جب مجھے یہ بات بھول جاتی ہے کہ کوئی مرا بھی کرتا ہے تو اس وقت کوئی میت ہوتی ہے۔اسی طرح ایک ملا یہاں آکر رہا ہمارے مرزا صاحب نے اسے محلے تقسیم کر دیئے ایک دن وہ روتا ہوا آیا کہ مجھے جو محلہ دیا ہے اس کے آدمیوں کے قد چھوٹے ہیں اس لئے ان کے مرنے پر جو کپڑا ملے گا اس سے چادر بھی نہ بنے گی اس وقت لوگوں کی حالت بہت ردی ہے۔صوفی لکھتے ہیں کہ مردہ کا مال کھانے سے دل سخت ہو جاتا ہے۔" اخبار بدر نمبر 10 جلد 2 مؤرخہ 27 / مارچ 1903ء صفحه (1)