فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 83

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 83 کی عادت میں داخل ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے مایوس ہو جاتے ہیں ہمارا خدا عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير خدا ہے۔قرآن شریف کا ترجمہ بھی پڑھو اور نمازوں کو سنوار سنوار کر پڑھو اور اس کا مطلب بھی سمجھ لو۔اپنی زبان میں بھی دعائیں کر لو۔قرآن شریف کو ایک معمولی کتاب سمجھ کر نہ پڑھو بلکہ اس کو خدا تعالیٰ کا کلام سمجھ کر پڑھو۔نماز کو اسی طرح پڑھو جس طرح رسول اللہ علیم اللہ پڑھتے تھے۔البتہ اپنی حاجتوں اور مطالب کو مسنون اذکار کے بعد اپنی زبان میں بے شک ادا کرو اور خدا تعالیٰ سے مانگو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اس سے نماز ہر گز ضائع نہیں ہوتی۔آج کل لوگوں نے نماز کو خراب کر رکھا ہے نمازیں کیا پڑھتے ہیں ٹکریں مارتے ہیں نماز تو بہت جلد جلد مرغ کی طرح ٹھونگیں مار کر پڑھ لیتے ہیں اور پیچھے دعا کیلئے بیٹھے رہتے ہیں۔نماز کا اصل مغز اور روح تو دعا ہی ہے نماز سے نکل کر دعا کرنے سے وہ اصل مطلب کہاں حاصل ہو سکتا ہے۔ایک شخص بادشاہ کے دربار میں جاوے اور اس کو اپنا حال عرض کرنے کا موقع بھی ہو لیکن وہ اس وقت تو کچھ نہ کہے لیکن جب دربار سے باہر جاوے تو اپنی درخواست پیش کرے۔اس سے کیا فائدہ۔ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہے جو نماز میں خشوع خضوع کے ساتھ دعائیں نہیں مانگتے۔تم کو جو دعائیں کرنی ہوں نماز میں کر لیا کرو اور پورے آداب الدعا کو ملحوظ رکھو۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے شروع ہی میں دعا سکھائی ہے اور اس کے ساتھ ہی دعا کے آداب بھی بتا دیئے ہیں۔سورہ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا لازمی ہے اور یہ دعا ہی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل دعا نماز ہی میں ہوتی ہے۔" " الحکم نمبر 23 جلد 6 مؤرخہ 24 /جون 1902 ء صفحہ 2) (۱۰۵) امامت مساجد و ائمہ مساجد زمانہ موجودہ کا حال و روش فرمایا:۔میں ہمیشہ اپنے سفر کے دنوں میں مسجدوں میں حاضر ہونے سے کراہت ہی کرتا ہوں۔مگر معاذ اللہ اس کی وجہ کسل یا استخفاف احکام الہی نہیں۔بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں ہمارے ملک کی اکثر مساجد کا حال نہایت ابتر اور قابل افسوس ہو رہا ہے۔اگر ان مسجدوں میں جا کر آپ امامت کا ارادہ کیا جائے تو وہ جو امامت کا منصب رکھتے ہیں از بس ناراض اور نیلے پیلے ہو جاتے ہیں۔اور اگر ان کا