فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 70
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 70 ہے۔اگر کوئی شخص آنحضرت عیب اللہ کے حالات سے آشنا ہو تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ آپ نے عليه السلام کبھی ایسی باتوں کا التزام نہیں کیا وہ تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا تھے۔انسان کو تعجب آتا ہے کہ کس مقام اور درجہ پر آپ پہنچے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات آپ علی اللہ میرے گھر میں تھے رات کو جو میری آنکھ کھلی تو میں نے آپ کو اپنے بستر پر نہ پایا مجھے خیال گزرا کہ کسی دوسری بیوی کے گھر میں ہوں گے چنانچہ میں نے سب گھروں میں دیکھا مگر آپ کو نہ پایا پھر میں باہر نکلی تو قبرستان میں دیکھا کہ آپ سفید چادر کی طرح پر زمین پر پڑے ہوئے ہیں اور سجدہ میں گرے ہوئے کہہ رہے ہیں سَجَدَ لَكَ رُوحِی وَ جَنَا نِی اب بتاؤ کہ یہ مقام اور مرتبہ ۳۳ مرتبہ کی دانہ شماری سے پیدا ہو جاتا ہے ہرگز نہیں۔جب انسان میں اللہ تعالیٰ کی محبت جوش زن ہوتی ہے تو اس کا دل سمندر کی طرح موجیں مارتا ہے وہ ذکر الہی کرنے میں بے انتہا جوش اپنے اندر پاتا ہے اور پھر گن کر ذکر کرنا تو کفر سمجھتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ عارف کے دل میں جو بات ہوتی ہے اور جو تعلق اپنے محبوب و مولیٰ سے اسے ہوتا ہے وہ کبھی روار کھ سکتا ہی نہیں کہ تسبیح لے کر دانہ شماری کرے۔کسی نے کہا ہے من (دل) کا منکا (دانہ ) صاف کر انسان کو چاہئے کہ اپنے دل کو صاف کرے اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کرے تب وہ کیفیت پیدا ہوگی اور وہ ان دانہ شماریوں کو بیچے سمجھے گا۔" الحکم نمبر 21 جلد 8 مؤرخہ 24 جون 1904 ، صفحہ 1 ) (۸۸) نماز میں تعدا در رکعت کیوں رکھی ہے پوچھا گیا کہ نمازوں میں تعداد رکعت کیوں رکھی ہے؟ فرمایا:۔"اس میں اللہ تعالیٰ نے اور اسرار رکھے ہیں جو شخص نماز پڑھے گا وہ کسی نہ کسی حد پر تو آخر ر ہے گا ہی اور اسی طرح پر ذکر میں بھی ایک حد تو ہوتی ہے لیکن وہ حد وہی کیفیت اور ذوق و شوق ہوتا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے جب وہ پیدا ہو جاتی ہے تو وہ بس کر جاتا ہے۔دوسرے یہ بات حال والی ہے قال والی نہیں۔جو شخص اس میں پڑتا ہے وہی سمجھ سکتا ہے۔اصل غرض ذکر الہی سے یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کرے اور اسے اپنے سامنے دیکھتا رہے اس