فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 69

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 69 69 (۸۷) نماز کے بعد تینتیس بار اللہ اکبر وغیرہ پڑھنا حضرت حجت الله سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بمقام گورداسپورا حاطہ کچہری میں ایک صاحب نے پوچھا کہ بعد نماز تسبیح لے کر ۳۳ مرتبہ اللہ اکبر وغیرہ جو پڑھا جاتا ہے آپ اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا:۔آنحضرت علیل اللہ کا وعظ حسب مراتب ہوا کرتا تھا اور اسی حفظ مراتب نہ کرنے کی وجہ سے بعض لوگوں کو مشکلات پیش آئی ہیں اور انہوں نے اعتراض کر دیا ہے کہ فلاں دو احادیث میں باہم اختلاف ہے حالانکہ اختلاف نہیں ہوتا بلکہ وہ تعلیم بلحاظ محل اور موقع کے ہوتی تھی۔مثلاً ایک شخص آنحضرت لی اللہ کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ نیکی کیا ہے۔آنحضرت علی اللہ کومعلوم ہے کہ اس میں یہ کمزوری ہے کہ ماں باپ کی عزت نہیں کرتا۔آپ نے فرمایا کہ نیکی یہ ہے کہ تو ماں باپ کی عزت کر۔اب کوئی خوش فہم اس سے یہ نتیجہ نکال لے کہ بس اور تمام نیکیوں کو ترک کر دیا جاوے یہی نیکی ہے۔ایسا نہیں۔اسی طرح پر تسبیح کے متعلق بات ہے۔قرآن شریف میں تو آیا ہے وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔اللہ کا بہت ذکر کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔اب یہ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرً ا نماز کے بعد ہی ہے۔تو ۳۳ مرتبہ تو کثیر کے اندر نہیں آتا۔پس یا درکھو کہ ۳۳ مرتبہ والی بات حسب مراتب ہے۔ورنہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو سچے ذوق اور لذت سے یاد کرتا ہے اسے شمار سے کیا کام وہ تو بیرون از شمار یاد کرے گا۔ایک عورت کا قصہ مشہور ہے کہ وہ کسی پر عاشق تھی اس نے ایک فقیر کو دیکھا کہ وہ تسبیح ہاتھ میں لئے ہوئے پھیر رہا ہے۔اس عورت نے اس سے پوچھا کہ تو کیا کر رہا ہے۔اس نے کہا کہ میں اپنے یار کو یاد کرتا ہوں۔عورت نے کہا کہ یار کو یاد کرنا اور پھر گن گن کر۔در حقیقت یہ بات بالکل سچی ہے کہ یار کو یاد کرنا ہو تو پھر گن گن کر کیا یاد کرنا ہے۔اور اصل بات یہی ہے کہ جب تک ذکر الہی کثرت سے نہ ہو وہ لذت اور ذوق جو اس ذکر میں رکھا گیا ہے حاصل نہیں ہوتا۔آنحضرت علی اللہ نے جو ۳۳ مرتبہ فرمایا ہے وہ آئی اور شخصی بات ہوگی۔کوئی شخص ذکر نہ کرتا ہوگا تو آپ نے اسے فرما دیا کہ ۳۳ مرتبہ کر لیا کر اور یہ جو تسبیح ہاتھ میں لے کر بیٹھتے ہیں یہ مسئلہ بالکل غلط