فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 67
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 67 نہیں؟ حضرت اقدس نے دوسرے مولویوں کی رائے دریافت کی۔مختلف اسلامی فرقوں کے مذاہب اس امر کے متعلق بیان کئے گئے۔آخر حضرت نے فیصلہ دیا اور فرمایا:۔"ہمارا مذ ہب تو یہی ہے کہ لَا صَلوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ آدمی امام کے پیچھے ہو یا منفرد ہو ہر حالت میں اس کو چاہئے کہ سورہ فاتحہ پڑھے۔مگر امام کو نہ چاہئے کہ جلدی جلدی سورہ فاتحہ پڑھے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھے تا کہ مقتدی سن بھی اور اپنا پڑھ بھی لے یا ہر آیت کے بعد امام اتنا ٹھہر جائے کہ مقتدی بھی اس آیت کو پڑھ لے۔بہر حال مقتدی کو یہ موقع دینا چاہئے کہ وہ سن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔سورہ فاتحہ کا پڑھناضروری ہے کیونکہ وہ ام الکتاب ہے لیکن جو شخص باوجود اپنی کوشش کے جو وہ نماز میں ملنے کیلئے کرتا ہے آخر رکوع میں ہی آکر ملا ہے اور اس سے پہلے نہیں مل سکا تو اس کی رکعت ہوگئی اگر چہ اس نے سورہ فاتحہ اس میں نہیں پڑھی۔کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس نے رکوع کو پالیا اس کی رکعت ہو گئی۔مسائل دو طبقات کے ہوتے ہیں ایک جگہ تو حضرت رسول کریم نے فرمایا اور تاکید کی کہ نماز میں سورہ فاتحہ ضرور پڑھیں وہ ام الکتاب ہے اور اصل نماز وہی ہے مگر جو شخص با وجود اپنی کوشش کے اور اپنی طرف سے جلدی کرنے کے رکوع میں ہی آ کر ملا ہے تو چونکہ دین کی بنا آسانی اور نرمی پر ہے اس واسطے حضرت رسول کریم علیل یا اللہ نے فرمایا کہ اس کی رکعت ہوگئی۔وہ سورہ فاتحہ کا منکر نہیں ہے بلکہ دیر میں پہنچنے کے سبب رخصت پر عمل کرتا ہے۔میرا دل خدا نے ایسا بنایا ہے کہ ناجائز کام میں مجھے قبض ہو جاتی ہے اور میرا جی نہیں چاہتا کہ میں اسے کروں اور یہ صاف ہے کہ جب نماز میں ایک آدمی نے تین حصوں کو پورا پالیا اور ایک حصہ میں یہ سب کسی مجبوری کے دیر میں مل سکا ہے تو کیا حرج ہے۔انسان کو چاہئے کہ رخصت پر عمل کرے۔ہاں جو شخص عمد استی کرتا ہے اور جماعت میں شامل ہونے میں دیر کرتا ہے تو اس کی نماز ہی فاسد ہے۔" الحکم نمبر 7 جلد 5 مؤرخہ 24 اپریل 1901 ء صفحه (9) (۸۴) سلسلہ احمدیہ سے ناواقف و منافق و مداہن امام کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا فتویٰ سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ