فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 67

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 67 نہیں؟ حضرت اقدس نے دوسرے مولویوں کی رائے دریافت کی۔ مختلف اسلامی فرقوں کے مذاہب اس امر کے متعلق بیان کئے گئے ۔ آخر حضرت نے فیصلہ دیا اور فرمایا:۔ " ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ لَا صَلوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ آدمی امام کے پیچھے ہو یا منفرد ہو ہر حالت میں اس کو چاہئے کہ سورہ فاتحہ پڑھے ۔ مگر امام کو نہ چاہئے کہ جلدی جلدی سورہ فاتحہ پڑھے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھے تا کہ مقتدی سن بھی اور اپنا پڑھ بھی لے یا ہر آیت کے بعد امام اتنا ٹھہر جائے کہ مقتدی لے یہ آیت کے بعدامام اتنا ہر جئے کہ مقتدی بھی اس آیت کو پڑھ لے۔ بہر حال مقتدی کو یہ موقع دینا چاہئے کہ وہ سن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔ سورہ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے کیونکہ وہ ام الکتاب ہے لیکن جو شخص باوجود اپنی کوشش کے جو وہ نماز میں ملنے کیلئے کرتا ہے آخر رکوع میں ہی آکر ملا ہے اور اس سے پہلے نہیں مل سکا تو اس کی رکعت ہو گئی اگرچہ اس نے سورہ فاتحہ اس میں نہیں پڑھی۔ کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس نے رکوع کو پالیا اس کی رکعت ہو گئی ۔ مسائل دو طبقات کے ہوتے ہیں ایک جگہ تو حضرت رسول کریم نے فرمایا اور تاکید کی کہ نماز میں سورہ فاتحہ ضرور پڑھیں وہ ام الکتاب ہے اور اصل نماز وہی ہے مگر جو شخص باوجود اپنی کوشش کے اور اپنی طرف سے جلدی کرنے کے رکوع میں ہی آ کر ملا ہے تو چونکہ دین کی بنا آسانی اور نرمی پر ہے اس واسطے حضرت رسول کریم علیم اللہ نے فرمایا کہ اس کی رکعت ہو گئی ۔ وہ سورہ فاتحہ کا منکر نہیں ۔ ہے وسلم بلکہ دیر میں پہنچنے کے سبب رخصت پر عمل کرتا ہے۔ میرا دل خدا نے ایسا بنایا ہے کہ ناجائز کام میں مجھے خدانے ایسا بنایا ض ہو جاتی ہے اور میرا جی نہیں چاہتا کہ میں اسے کروں اور یہ صاف ہے کہ جب نماز نے تین حصوں کو پورا پا لیا اور ایک حصہ میں یہ سبب کسی مجبوری کے دیر میں مل سکا ہے تو کیا حرج ہے۔ انسان کو چاہئے کہ رخصت پر عمل کرے۔ ہاں جو شخص عمد استی کرتا ہے اور جماعت میں شامل ہونے میں دیر کرتا ہے تو اس کی نماز ہی فاسد ہے۔" الحکم نمبر 7 جلد 5 مورخہ 24 را پریل 1901ء صفحہ 9) (۸۴) سلسلہ احمدیہ سے ناواقف و منافق و مداہن امام کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا فتوی سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ