فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 61
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 61 ہیں کہ آدھ میل کا سفر ایک آدمی کر سکتا ہے۔میں نے اپنی جماعت کو بہت نصیحت کی ہے کہ اپنی نماز کو سنوارو یہ بھی دعا ہے۔کیا وجہ ہے کہ بعض لوگ تمہیں تمیں برس تک برابر نماز پڑھتے ہیں پھر کورے کے کورے ہی رہتے ہیں۔کوئی اثر روحانیت اور خشوع خضوع کا ان میں پیدا نہیں ہوتا اس کا یہی سبب ہے کہ وہ وہ نماز پڑھتے ہیں جس پر خدا تعالیٰ لعنت بھیجتا ہے ایسی نمازوں کیلئے ویل آیا ہے۔دیکھو جس کے پاس اعلیٰ درجہ کا جو ہر ہو تو کیا کوڑیوں اور پیسوں کیلئے اسے اس کو پھینک دینا چاہئے؟ ہر گز نہیں اوّل اس جو ہر کی حفاظت کا اہتمام کرے اور پھر پیسوں کو بھی سنبھالے اس لئے نماز کو سنوار سنوار کر اور سمجھ مجھے کر پڑھے۔" سائل:۔الحمد شریف بیشک دعا ہے مگر جن کو عربی کا علم نہیں ان کو تو دعامانگنی چاہئے۔حضرت اقدس :۔"ہم نے اپنی جماعت کو کہا ہوا ہے کہ طوطہ کی طرح مت پڑھو۔سوائے قرآن شریف کے جو رب جلیل کا کلام ہے اور سوائے ادعیہ ماثورہ کے کہ نبی کریم عیب اللہ کا معمول تھیں۔نماز با برکت نہ ہوگی جب تک اپنی زبان میں اپنے مطالب بیان نہ کرو۔اس لئے ہر شخص کو جو عربی زبان نہیں جانتا ضروری ہے کہ اپنی زبان میں اپنی دعاؤں کو پیش کرے اور رکوع میں سجود میں مسنون تسبیحوں کے بعد اپنی حاجات کو عرض کرے۔ایسا ہی التحیات میں اور قیام اور جلسہ میں۔اس لئے میری جماعت کے لوگ اس تعلیم کے موافق نماز کے اندر اپنی زبان میں دعائیں کر لیتے ہیں اور ہم بھی کر لیتے ہیں۔اگر چہ ہمیں تو عربی اور پنجابی یکساں ہی ہیں مگر مادری زبان کے ساتھ انسان کو ایک ذوق ہوتا ہے۔اس لئے اپنی زبان میں نہایت خشوع اور خضوع کے ساتھ اپنے مطالب اور مقاصد کو بارگاہ رب العزت میں عرض کرنا چاہئے۔میں نے بارہا سمجھایا ہے کہ نماز کا تعہد کرو جس سے حضور اور ذوق پیدا ہو۔فریضہ تو جماعت کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں باقی نوافل اور سنن کو جیسا چاہو طول دو اور چاہئے کہ اس میں گریہ و بکا ہوتا کہ وہ حالت پیدا ہو جاوے جو نماز کا اصل مطلب ہے۔نماز ایسی شے ہے کہ سیئات کو دور کر دیتی ہے جیسے فرما انَّ الحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَات نماز کل بدیوں کو دور کر دیتی ہے۔حسنات سے مراد نماز ہے مگر آج کل یہ حالت ہو رہی ہے کہ عام طور پر نمازی کو مکار سمجھا جاتا ہے کیونکہ عام لوگ بھی جانتے ہیں