فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 60
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 60 علی لصلوۃ والسلام کے حضور جب آپ نماز مغرب سے فارغ ہو کر شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے یہ عرض کیا کہ میں نے آج تحفہ گولڑویہ اور کشتی نوح کے بعض مقامات پڑھے ہیں۔ میں ایک امر جناب سے دریافت کرنا چاہتا ہوں اگر چہ وہ فروعی ہے لیکن پوچھنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ہم لوگ عموماً بعد نماز ۔ دعا مانگتے ہیں لیکن یہاں نوافل تو خیر دعا بعد نماز نہیں مانگتے۔ مانگتے ۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا:۔ اصل یہ ہے کہ ہم دعا مانگنے سے تو منع نہیں کرتے اور ہم خود بھی دعا مانگتے ہیں اور صلوٰۃ بجائے خود دعا ہی ہے۔ بات یہ ہے کہ میں نے اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے کہ ہندوستان میں یہ عام بدعت پھیلی ہوئی ہے کہ تعدیل ارکان پورے طور پر ملحوظ نہیں رکھتے اور ٹھو نگے دار نماز پڑھتے ہیں گویا وہ نماز ایک ٹیکس ہے جس کا ادا کرنا ایک بوجھ ہے اس لئے اس طریق سے ادا کیا جاتا ہے جس میں کراہت پائی جاتی ہے ۔ ، حالانکہ نماز ایسی شے ہے کہ جس سے ایک ذوق ، انس اور ، ذوق ، انس اور سرور بڑھتا ہے مگر جس طرز پر نماز ادا کی جاتی ہے اس سے حضور قلب نہیں ہوتا اور بے ذوقی اور بے لطفی پیدا ہوتی ہے میں نے اپنی جماعت کو یہی نصیحت کی ہے کہ وہ بے ذوقی اور بے حضوری پیدا کرنے والی نماز نہ پڑھیں بلکہ حضور قلب کی کوشش کریں جس سے ان کو سرور اور ذوق حاصل ہو۔ عام طور پر یہ حالت ہو رہی ہے کہ نماز کو ایسے طور سے پڑھتے ہیں کہ جس میں حضور قلب کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ جلدی جلدی اس کو ختم کیا جاتا ہے اور خارج نماز میں بہت کچھ دعا کیلئے کرتے ہیں اور دیر تک دعا مانگتے رہتے ہیں حالانکہ نماز کا (جو مومن کی معراج ہے ) مقصود یہی ہے کہ اس میں دعا کی جاوے اور اسی لئے ام الادعيه اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم دعامانگی جاتی ہے۔ انسان کبھی خدا کا قرب حاصل نہیں کرتا جب تک کہ اقام الصلاۃ نہ کرے۔ اَقِیمُوا الصَّلوةَ اس لئے فرمایا کہ نماز گری پڑتی ہے۔ مگر جو شخص اقام الصلوۃ کرتے ہیں تو وہ اس کی روحانی صورت سے فائدہ اُٹھاتے ہیں تو پھر وہ دعا کی محویت میں ہو جاتے ہیں۔ نماز ایک ایسا شربت ہے کہ جو ایک بار اسے پی لے اُسے فرصت ہی نہیں ہوتی اور وہ فارغ ہی نہیں ہو سکتا ہمیشہ اس سے سرشار اور مست رہتا ہے اس سے ایسی محویت ہوتی ہے کہ اگر ساری عمر میں ایک بار بھی اسے چکھتا ہے تو پھر اس کا اثر نہیں جاتا۔ مومن کو بے شک اُٹھتے بیٹھتے ہر وقت دعائیں کرنی چاہئیں ۔ مگر نماز کے بعد جو دعاؤں کا طریق اس ملک میں جاری ہے وہ عجیب ہے بعض مساجد میں اتنی لمبی دعائیں کی جاتی