فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 52
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 52 ہو دیں ورنہ یہ ایک گناہ کبیرہ ہوگا کہ ہم آنحضرت کی پیشگوئیوں کو خفت کی نگاہ سے دیکھیں۔خدا تعالیٰ نے ایسے ہی اسباب پیدا کر دیئے کہ اتنے عرصہ سے نمازیں جمع ہو رہی ہیں ورنہ ایک دو دن کیلئے یہ بات ہوتی تو کوئی نشان نہ ہوتا۔ہم رسول کریم عبید اللہ کے لفظ لفظ اور حرف حرف کی تعظیم کرتے ہیں۔" الحکم نمبر 6 جلد 5 مؤرخہ 17 فروری 1901 ، صفحہ 13 (14) (۷۱) جمع بین الصلوٰ تین کے متعلق حضرت حجتہ اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک تقریر جو آپ نے 3 دسمبر 1901ء کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں فرمائی:۔"سب صاحبوں کو معلوم ہو کہ ایک مدت سے خدا جانے قریباً چھ ماہ یا کم وبیش عرصہ سے ظہر اور عصر کی نماز جمع کی جاتی ہے۔میں اس کو مانتا ہوں کہ ایک عرصہ سے جو مسلسل نماز جمع کی جاتی ہے ایک نو وارد یا نومرید کو ( جس کو ہمارے اغراض و مقاصد کی کوئی خبر نہیں ہے ) یہ شبہ گزرتا ہو گا کہ کاہلی کے سبب سے نماز جمع کر لیتے ہوں گے جیسے بعض غیر مقلد ذرا ابر ہوا یا کسی عدالت میں جانا ہوا تو نماز جمع کر لیتے ہیں اور بلا مطر اور بلا عذر بھی نماز جمع کرنا جائز سمجھتے ہیں۔مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم کو اس جھگڑے کی ضرورت اور حاجت نہیں اور نہ ہم اس میں پڑنا چاہتے ہیں کیونکہ میں طبعا اور فطرتا اس کو پسند کرتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے اور نماز موقوتہ کے مسئلہ کو بہت ہی عزیز رکھتا ہوں بلکہ سخت مطر میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے۔اگر چہ شیعوں نے اور غیر مقلدوں نے اس پر بڑے بڑے مباحثے کئے ہیں مگر ہم کو ان سے کوئی غرض نہیں وہ صرف نفس کی کا بلی سے کام لیتے ہیں۔سہل حدیثوں کو اپنے مفید مطلب پاکر ان سے کام لیتے ہیں اور مشکل کو موضوع اور مجروح ٹھہراتے ہیں۔ہمارا یہ مدعا نہیں بلکہ ہمارا مسلک ہمیشہ حدیث کے متعلق یہی رہا ہے کہ جو قرآن اور سنت کے مخالف نہ ہو وہ اگر ضعیف بھی ہو تب بھی اس پر عمل کر لینا چاہئے۔اس وقت جو ہم نمازیں جمع کرتے ہیں تو اصل بات یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی تفہیم۔القاء اور