فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 37

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 37 دعا ئیں جو صیغہ واحد متکلم میں ہوتی ہوں یعنی انسان کے اپنے واسطے ہی ہوسکتی ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ان کو صیغہ جمع میں پڑھ کر مقتدیوں کو بھی اپنی دعا میں شامل کر لیا کروں۔اس میں کیا حکم ہے۔فرمایا:۔" جو دعائیں قرآن شریف میں ہیں ان میں کوئی تغییر جائز نہیں کیونکہ وہ کلام الہی ہے۔وہ جس طرح قرآن شریف میں ہے اسی طرح پڑھنا چاہئے۔ہاں حدیث میں جو دعائیں آئی ہیں ان کے متعلق اختیار ہے کہ صیغہ واحد کی بجائے صیغہ جمع پڑھ لیا کریں۔" فرمایا:۔اخبار بدر نمبر 14 جلد 6 مؤرخہ 04 اپریل 1907ء صفحہ 6) (۴۹) نماز کے بعد دعا بدعت ہے " آج کل لوگ جلدی جلدی نماز کو ختم کرتے ہیں اور پیچھے لمبی دعائیں مانگنے بیٹھتے ہیں یہ بدعت ہے۔جس نماز میں تضرع نہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں۔خدا تعالیٰ سے رقت کے ساتھ دعا نہیں وہ نماز تو خود ہی ٹوٹی ہوئی نماز ہے۔نماز وہ ہے جس میں دعا کا مزا آ جاوے۔خدا کے حضور میں ایسی توجہ سے کھڑے ہو جاؤ کہ رقت طاری ہو جائے۔جیسے کہ کوئی شخص کسی خوفناک مقدمہ میں گرفتار ہوتا ہے اور اس کے واسطے قید یا پھانسی کا فتولی لگنے والا ہوتا ہے اس کی حالت حاکم کے سامنے کیا ہوتی ہے۔ایسے ہی خوف زدہ دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا چاہئے۔جس نماز میں دل کہیں ہے اور خیال کسی طرف ہے اور منہ سے کچھ نکلتا ہے وہ ایک لعنت ہے جو آدمی کے منہ پر واپس ماری جاتی ہے اور قبول نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے "وَيْلٌ لِلْمُصَلَّيْنَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ " لعنت ہے ان پر جو اپنی نماز کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔نماز وہی اصلی ہے جس میں مزا آ جاوے۔ایسی ہی نماز کے ذریعہ سے گناہ سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور یہی وہ نماز ہے جس کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے۔نماز مومن کے واسطے ترقی کا ذریعہ ہے۔اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔دیکھو بخیل سے بھی انسان مانگتارہتا ہے۔تو وہ بھی کسی نہ کسی وقت کچھ دے دیتا ہے اور رحم کھا تا ہے۔خدا تعالیٰ تو خود حکم دیتا ہے کہ مجھ سے مانگو اور میں