فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 35
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 35 (۴۴) مسجد کی زینت دہلی کی جامع مسجد کو دیکھ کر فرمایا کہ:۔مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ورنہ یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔رسول کریم علی اللہ کی مسجد چھوٹی سی تھی کھجور کی چھڑیوں سے اس کی چھت بنائی گئی تھی اور بارش کے وقت چھت میں سے پانی ٹپکتا تھا۔مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے۔آنحضرت علی اللہ کے وقت میں دنیا داروں نے ایک مسجد بنوائی تھی وہ خدا کے حکم سے گرادی گئی۔اس مسجد کا نام مسجد ضرار تھا یعنی ضرر رساں۔اس مسجد کی زمین خاک کے ساتھ ملا دی گئی تھی۔مسجدوں کے واسطے حکم ہے کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جائیں۔" ( اخبار بدر نمبر 31 جلد 1 مؤرخہ 31 اکتوبر 1905 صفحہ 3) (۴۵) نماز میں اپنی زبان میں دعا سوال ہوا کہ آیا نماز میں اپنی زبان میں دعامانگنا جائز ہے؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔سب زبانیں خدا نے بنائی ہیں۔چاہئے کہ اپنی زبان میں جس کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے نماز کے اندر دعائیں مانگے کیونکہ اس کا اثر دل پر پڑتا ہے۔تاکہ عاجزی اور خشوع پیدا ہو۔کلام الہی کو ضرور عربی میں پڑھو اور اس کے معنی یا درکھو اور دعا بے شک اپنی زبان میں مانگو۔جو لوگ نماز کو جلدی جلدی پڑھتے ہیں اور پیچھے لمبی دعائیں کرتے ہیں وہ حقیقت سے نا آشنا ہیں۔دعا کا وقت نماز ہے۔نماز میں بہت دعائیں مانگو۔(۴۶) الحکم نمبر 19 جلد 5 مؤرخہ 24 رمئی 1901 ء صفحہ 9)۔ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور! امام اگر اپنی زبان میں (مثلاً اُردو میں ) بآواز بلند دعا مانگتا جائے اور پیچھے آمین کرتے جاویں تو کیا یہ جائز ہے۔جب کہ حضور کی تعلیم ہے کہ اپنی زبان میں