فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 34

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وقت اُٹھ کر چلے گئے۔34 34 ( اخبار بدر نمبر 8 جلد 3 مؤرخہ 24 فروری 1904 ء صفحہ 3) (۴۲) مسجد کا حصہ مکان میں ملانا ایک شخص نے سوال لکھ کر بھیجا تھا کہ میرے دادا نے مکان کے ایک حصہ ہی کو مسجد بنایا تھا اور اب اس کی ضرورت نہیں رہی ہے تو کیا اس کو مکان میں ملالیا جاوے؟ فرمایا:۔" ہاں ملا لیا جاوے۔" (الحکم نمبر 37 جلد 6 مؤرخہ 17 اکتوبر 1902 ء صفحہ 11) (۴۳) کسی مسجد کیلئے چندہ کہیں سے خط آیا کہ ہم ایک مسجد بنانا چاہتے ہیں اور تبر کا آپ سے بھی چندہ چاہتے ہیں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔"ہم تو دے سکتے ہیں اور یہ کچھ بڑی بات نہیں مگر جب کہ خود ہمارے ہاں بڑے بڑے اہم اور ضروری سلسلے خرچ کے موجود ہیں جن کے مقابل میں اس قسم کے خرچوں میں شامل ہونا اسراف معلوم ہوتا ہے تو ہم کس طرح سے شامل ہوں۔یہاں جو مسجد خدا بنا رہا ہے اور وہی مسجد اقصیٰ ہے۔وہ سب سے مقدم ہے۔اب لوگوں کو چاہئے کہ اس کے واسطے روپیہ بھیج کر ثواب میں شامل ہوں۔ہمارا دوست وہ ہے جو ہماری بات کو مانے نہ وہ کہ جو اپنی بات کو مقدم رکھے۔حضرت امام ابوحنیفہ کے پاس ایک شخص آیا کہ ہم ایک مسجد بنانے لگے ہیں آپ بھی اس میں کچھ چندہ دیں۔انہوں نے عذر کیا کہ میں اس میں کچھ دے نہیں سکتا حالانکہ وہ چاہتے تو بہت کچھ دیتے۔اس شخص نے کہا ہم آپ سے بہت نہیں مانگتے صرف تبر کا کچھ دے دیجئے۔آخر انہوں نے ایک دوانی کے قریب سکہ دیا۔شام کے وقت وہ شخص دوائی لے کر واپس آیا اور کہنے لگا کہ حضرت یہ تو کھوٹی نکلی ہے۔وہ بہت ہی خوش ہوئے اور فرمایا خوب ہوا۔دراصل میرا جی نہیں چاہتا تھا کہ میں کچھ دوں مسجدیں بہت ہیں اور مجھے اس میں اسراف معلوم ہوتا ہے۔" الحکم نمبر 19 جلد 5 مؤرخہ 24 مئی 1901 ، صفحہ 9