فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 33

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 33 " یہ سوال بے معنی ہے۔غسال ہونا کوئی گناہ نہیں۔امامت کے لائق وہ شخص ہے جو متقی ہو نیک و کار عالم باعمل ہو۔اگر ایسا ہے تو غسال ہونا کوئی عیب نہیں جو امامت سے روک سکے۔" فرمایا:۔( اخبار بدر نمبر 21 جلد 6 مؤرخہ 23 رمئی 1907 ء صفحہ 10 ) (۴۰) نماز وروزہ کا اثر روح و جسم پر بعض بے وقوف کہتے ہیں کہ خدا کو ہماری نمازوں کی کیا حاجت ہے۔اے نادانو خدا کو حاجت نہیں مگر تم کو تو حاجت ہے کہ خدا تمہاری طرف توجہ کرے۔خدا کی توجہ سے بگڑے ہوئے کام سب درست ہو جاتے ہیں۔نماز ہزاروں خطاؤں کو دور کر دیتی ہے اور ذریعہ حصول قرب الہی ہے۔روزہ اور نماز ہر دو عبادتیں ہیں۔روزہ کا زور جسم پر ہے اور نماز کا زور روح پر ہے۔نماز سے ایک سوز و گداز پیدا ہوتی ہے۔اس واسطے وہ افضل ہے۔روزے سے کشوف پیدا ہوتے ہیں مگر یہ کیفیت بعض دفعہ جو گیوں میں بھی پیدا ہوسکتی ہے۔لیکن روحانی گدازش جو دعاؤں سے پیدا ہوتی ہے اس میں کوئی شامل نہیں۔" اخبار بدر نمبر 10 جلد 1 مؤرخہ 8 جون 1905 صفحه (2) (۴۱) ادب مسجد حضرت اقدس کے صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے مسجد میں آگئے اور اپنے ابا جان کے پاس ہو بیٹھے اور اپنے لڑکپن کے باعث کسی بات کے یاد آ جانے پر آپ دبی آواز سے کھل کھلا کر ہنس پڑتے تھے۔اس پر حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا " مسجد میں ہنسنا نہ چاہئے۔" جب دیکھا کہ بنی ضبط نہیں ہوتی تو اپنے باپ کی نصیحت پر یوں عمل کیا کہ صاحبزادہ صاحب ای