فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 31
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 31 34 اشغال کی سخت ممانعت ہے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک دل اور نیت کو بخوبی جانتا ہے۔( اخبار بدر نمبر 45,44 جلد 3 مؤرخہ 24 نومبر و یکم دسمبر 1904 ء صفحہ 4) (۳۳) حج میں احمدی کی نماز وکعبہ میں چار مصلے } حج میں بھی آدمی یہ التزام کر سکتا ہے کہ اپنے جائے قیام پر نماز پڑھ لیوے اور کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔بعض ائمہ دین سالہا سال مکہ میں رہے لیکن چونکہ وہاں کے لوگوں کی حالت تقویٰ سے گری ہوئی تھی اس لئے کسی کے پیچھے نماز پڑھنا گوارا نہ کیا اور گھر میں پڑھتے رہے۔یہ چار مصلے جواب ہیں یہ تو پیچھے بنے۔رسول اللہ صلی اللہ کے وقت ہرگز نہ تھے۔اس وقت ایک ہی مصلی تھا اور اب بھی جب تک چاروں اٹھ کر ایک ہی مصلی نہ ہوگا تب تک وہاں تو حید اور راستی ہرگز نہ پھیلے گی۔فرمایا:- { ( فتاوی احمدیہ صفحہ ۲۱) ( یہ اقتباس تا حال اصل ماخذ سے نہیں مل سکا ) (۳۴) امام کا لمبی سورتیں پڑھنا کسی شخص نے ذکر کیا کہ فلاں دوست نماز پڑھانے کے وقت بہت لمبی سورتیں پڑھتے ہیں۔امام کو چاہئے کہ نماز میں ضعفاء کی رعایت رکھے۔" ( اخبار بدر نمبر 3 جلد 1 مؤرخہ 20 را پریل 1905 ء صفحہ 2) (۳۵) امام مقتدیوں کا خیال رکھے سوال پیش ہوا کہ ایک پیش امام ماہ رمضان میں مغرب کے وقت لمبی سورتیں شروع کر دیتا ہے۔مقتدی تنگ آتے ہیں کیونکہ روزہ کھول کر کھانا کھانے کا وقت ہوتا ہے۔دن بھر کی بھوک سے ضعف لاحق حال ہوتا ہے۔بعض ضعیف ہوتے ہیں۔اسی طرح پیش امام اور مقتدیوں میں اختلاف ہو گیا ہے۔حضرت نے فرمایا کہ:۔پیش امام کی اس معاملہ میں غلطی ہے اس کو چاہئے کہ مقتدیوں کی حالت کا لحاظ رکھے اور نماز کو ایسی صورت میں بہت لمبا نہ کرے۔" اخبار بد رنمبر 44 جلد 6 مؤرخہ 31 اکتوبر 1907 ء صفحہ 7)