فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 30

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 30 اصول یہی ہے کہ سب کا خیر خواہ ہو۔" فرمایا:۔الحکم نمبر 33 جلد 2 مؤرخہ 29 اکتوبر 1898 صفحہ 4) (۳۱) نماز انسان کا تعویذ ہے "نماز انسان کا تعویذ ہے پانچ وقت دعا کا موقعہ ملتا ہے کوئی دعا تو سنی جائے گی۔اس لئے نماز کو بہت سنوار کر پڑھنا چاہئے اور مجھے بھی بہت عزیز ہے۔" الحکم نمبر 6 جلد 5 مؤرخہ 17 فروری 1901 صفحہ 7 ) (۳۲) نماز پڑھتے ہوئے کوئی کام کرنا ایک دوست ڈاکٹر محمد علی خانصاحب نے افریقہ سے استفسار کیا کہ اگر ایک احمدی بھائی نماز پڑھ رہا ہو اور باہر سے اس کا افسر آ جاوے اور دروازہ کو ہلا ہلا کر اور ٹھونک ٹھونک کر پکارے اور دفتر یا دوائی خانہ کی چابی مانگے تو ایسے وقت میں اسے کیا کرنا چاہئے۔اسی وجہ سے ایک شخص نوکری سے محروم ہو کر ہندوستان واپس کیا گیا ہے۔جواب:۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔ایسی صورت میں ضروری تھا کہ وہ دروازہ کھول کر چابی افسر کو دے دیتا ( یہ ہسپتال کا واقعہ ہے اس لئے فرمایا) کیونکہ اگر اس کے التوا سے کسی آدمی کی جان چلی جاوے تو یہ سخت معصیت ہوگی۔احادیث میں آیا ہے کہ نماز میں چل کر دروازہ کھول دیا جاوے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ایسے ہی اگر لڑکے کو کسی خطرہ کا اندیشہ ہو یا کسی موذی جانور سے جو نظر پڑتا ہوضرر پہنچتا ہوتو لڑکے کو بچانا اور جانور کو ماردینا اس حال میں کہ نماز پڑھ رہا ہے گناہ نہیں ہے اور نماز فاسد نہیں ہوتی۔بلکہ بعضوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ گھوڑا کھل گیا ہو تو اسے باندھ دینا بھی مفسد نماز نہیں ہے کیونکہ وقت کے اندر نماز تو پھر بھی پڑھ سکتا ہے۔" نوٹ:۔یادرکھنا چاہئے کہ اشد ضرورتوں کیلئے نازک مواقع پر یہ حکم ہے یہ نہیں کہ ہر ایک قسم کی رفع حاجت کو مقدم رکھ کر نماز کی پرواہ نہ کی جاوے اور اسے باز بیچھ طفلاں بنادیا جاوے۔ورنہ نماز میں