فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 29

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 29 29 "بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم - یہ آیت سورۃ ممدوحہ (سورۃ الفاتحہ۔ناقل ) کی آیتوں میں سے پہلی آیت ہے اور قرآن شریف کی دوسری سورتوں پر بھی لکھی گئی ہے۔" فرمایا:۔براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 414 حاشیہ نمبر 11 ، مطبوعہ نومبر 1984 ء ) "سورۃ فاتحہ کی سات آیتیں اسی واسطے رکھی ہیں کہ دوزخ کے سات دروازے ہیں۔پس ہر ایک آیت گویا ہر ایک دروازہ سے بچاتی ہے۔" فرمایا:۔الحکم نمبر 6 جلد 5 مؤرخہ 17 فروری 1901ء صفحہ 7 ) (۳۰) طریق دعائے نماز "دعا کے بارے میں یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفاتحہ میں دعا سکھلائی ہے۔یعنی اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اس میں تین لحاظ رکھنے چاہئیں۔(۱) ایک یہ کہ تمام بنی نوع کو اس میں شریک رکھے۔(۲) تمام مسلمانوں کو۔(۳) تیسرے ان حاضرین کو جو جماعت نماز میں داخل ہیں۔پس اس طرح کی نیت سے کل نوع انسان اس میں داخل ہونگے اور یہی منشاء خدا تعالیٰ کا ہے۔کیونکہ اس سے پہلے اسی سورت میں اس نے اپنا نام رَبُّ الْعَالَمِین رکھا ہے۔جو عام ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے۔جس میں حیوانات بھی داخل ہیں۔پھر اپنا نام رخمن رکھا ہے اور یہ نام نوع انسان کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے۔کیونکہ یہ رحمت انسانوں سے خاص ہے۔اور پھر اپنا نام رحیم رکھا ہے اور یہ نام مومنوں کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے کیونکہ رحیم کا لفظ مومنوں سے خاص ہے۔اور پھر اپنا نام مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْن رکھا ہے۔اور یہ نام جماعت موجودہ کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے۔کیونکہ یوم الدین وہ دن ہے جس میں خدا تعالیٰ کے سامنے جماعتیں حاضر ہوں گی۔سواسی تفصیل کے لحاظ سے اِھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا ہے۔پس اس قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دعا میں تمام نوع انسان کی ہمدردی داخل ہے اور اسلام کا