فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page iv
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ج بسم الله الرحمن الرحیم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم خدمت دین کے کئی ایک شعبے اور کئی ایک طریقے ہیں، مومن کا فرض ہے کہ خدمت دین کے ہر موقعہ اور ہر شعبہ میں حصہ لینے کی کوشش کرتا رہے۔کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ کو کونسی خدمت پسند آ کر اس کی رضا کے حصول کا موجب ہو۔اللہ تعالیٰ جو علیم بذات الصدور ذات ہے وہ خوب جانتا ہے کہ میں ہر حرکت خدمت کی ابتداء اسی نیت سے کرتا ہوں۔البتہ الحاقی اور ضمنی رنگ میں فی الدنيا حسنة بھی ضرور مقصود مد نظر رہتا ہے اور میں ہمیشہ اس کا پھل اسی دنیا میں اس رنگ میں بھی حاصل کرتا رہا ہوں کہ باوجود کم مائیگی اور بے بضاعتی اور بالکل بے سروسامانی کے بڑے سے بڑے کام حیر العقول رنگ میں انجام پذیر ہوتے رہے ہیں۔جس کو میں محض اللہ تعالیٰ کے فضل واحسان بیکراں یقین کرتا ہوں۔منجملہ ان ناچیز خدمات کے ایک یہ خدمت بھی ہے۔قریباً آٹھ نو سال کا عرصہ گذرتا ہے کہ میں نے اس مقدس کام فتاویٰ کو شروع کیا تو لاہور میں مولوی محمد فضل خان صاحب چنگوی جو در اصل فتاوی احمدیہ کے پہلے موجد اور مؤلف ہیں ملے۔ان سے میں نے ذکر کیا کہ میں نے فتاویٰ کا کام اس طرح شروع کیا ہے کہ ہر ایک فتویٰ کا اصل حوالہ بھی ساتھ ہی درج کر دیا جاوے تا کہ مستند ہو جائیں۔اس پر انہوں نے مجھے فرمایا کہ اب میں نھج المصلی فتاویٰ احمد یہ شائع کر رہا ہوں۔اس میں میں نے اس امر کا لحاظ رکھ لیا ہے، تو میں نے یہ سن کر اپنی سرگرمیوں کو ملتوی کر دیا۔مگر بعد میں جب چنگوی صاحب کی نھج المصلی نکلی تو میرے افسوس کی کوئی حد نہ رہی کہ ایسی مفید کتاب کو انہوں نے اپنے ایک طول طویل عربی مضمون سے غیر معمولی طور پر جیم اور ضخیم کر دیا اور پھر بھی وہ حصہ نامکمل رہا اگر وہ اس عربی حصہ کو شامل نہ بھی کرتے تب بھی میرے منشاء کے مطابق وہ نہ تھی کیونکہ میر انشاء صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فتاویٰ کو الگ طور پر انتخاب کر کے شائع کرنا تھا۔مگر چنگوی صاحب کی کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ دیگر بزرگان سلسلہ کے فتاویٰ بھی جمع کئے گئے تھے کیونکہ جو طغری امتیاز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کو حاصل ہے وہ