فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 25
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 25 تھی وہ بھی معاذ اللہ غلط نکلی کیونکہ فتنہ تو موجود ہو گیا مگر وہ آنے والا امام نہ آیا۔ اب ان باتوں کو جب کوئی تسلیم کرے گا عملی طور پر کیا وہ آنحضرت علی یا اللہ کا مکذب ٹھہرے گا یا نہیں؟ پس پھر میں کھول کر کہتا ہوں کہ میری تکذیب آسان امر نہیں مجھے کافر کہنے سے پہلے خود کافر بننا ہوگا ۔ مجھے بے دین اور گمراہ کہنے میں دیر ہوگی مگر پہلے اپنی گمراہی اور روسیاہی کو مان لینا پڑے گا۔ مجھے قرآن اور حدیث کو چھوڑ نے والا کہنے کیلئے پہلے خود قرآن اور حدیث کو چھوڑ دینا پڑے گا اور پھر بھی وہی چھوڑے گا۔ میں قرآن اور حدیث کا مصدق و مصداق ہوں میں گمراہ نہیں بلکہ مہدی ہوں۔ میں کافر نہیں بلکہ أَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ کا مصداق صحیح ہوں اور یہ جو کچھ میں کہتا ہوں خدا نے مجھ پر ظاہر کیا کہ یہ سچ ہے جس کو خدا پر یقین ہے جو قرآن اور رسول اللہ علیم اللہ کو حق مانتا ہے اس کیلئے یہی حجت کافی ہے کہ میرے منہ سے سن کر خاموش ہو جائے لیکن جو دلیر اور بیباک ہے اس کا کیا علاج! خدا خود اس کو سمجھائے گا۔" الحکم نمبر 3 جلد 7 مورخہ 24 جنوری 1903ء صفحہ 2) (۲۳) غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کی سخت تاکید اپنی جماعت کا غیر کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کے متعلق ذکر تھا۔ فرمایا:۔ کاغیر ذکر (2 صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو۔ بہتری اور نیکی اسی میں ہے اور اسی میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے۔ دیکھو دنیا میں روٹھے ہوئے اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے اور تمہاری ناراضگی اور روٹھنا تو خدا کیلئے ہے۔ تم اگر ان میں رلے ملے رہے تو خدا تعالیٰ جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے وہ نہیں رکھے گا۔ پاک جماعت جب الگ ہو تو پھر اس میں ترقی ہوتی ہے۔" الحکم نمبر 29 جلد 5 مورخہ 10 را گست (1901 ء صفحه (3) (۲۴) سید عبداللہ صاحب عرب نے سوال کیا کہ میں اپنے ملک عرب میں جاتا ہوں ۔ وہاں میں ان