فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 26

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لوگوں کے پیچھے نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں؟ ہوئی۔فرمایا:۔26 26 "مصدقین کے سوا کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔" عرب صاحب نے عرض کیا کہ وہ لوگ حضور کے حالات سے واقف نہیں ہیں اور ان کو تبلیغ نہیں فرمایا:۔" ان کو پہلے تبلیغ کر دینا پھر یاوہ مصدق ہو جائیں گے یا مکذب۔" عرب صاحب نے عرض کیا کہ ہمارے ملک کے لوگ بہت سخت ہیں اور ہماری قوم شیعہ ہے۔فرمایا:۔" تم خدا کے بنوا اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس کا معاملہ صاف ہو جائے اللہ تعالیٰ آپ اس کا متولی اور متکفل ہو جاتا ہے۔" فرمایا:۔الحکم نمبر 35 جلد 5 مؤرخہ 24 ستمبر 1901ء صفحہ 6) " کلام الہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہے اس لئے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی ملکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں دوسروں فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکتی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔پس تم ایسا ہی کرو۔کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر یک حال میں مجھے حکم ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازع کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے۔مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے۔پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں