فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 279

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 279 کشف میں اس جسم کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ کشف میں جوجسم دیا جاتا ہے اس میں کسی قسم کا حجاب نہیں ہوتا بلکہ بڑی بڑی طاقتیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں اور آپ کو اسی جسم کے ساتھ جو بڑی طاقتوں والا ہوتا ہے معراج ہوا۔" پھر آپ نے اس امر کی تائید میں چند آیات سے استدلال کیا کہ جسم آسمان پر نہیں جاتا یہ باتیں قریباً پہلے ہم بارہا درج کر چکے ہیں۔بخوف طوالت اعادہ نہیں کرتے۔ایڈیٹر ) فرمایا:۔(احکام نمبر 40 جلد 6 مؤرخہ 10 نومبر 1902 صفحہ 5) (۳۷۸) با جابجانے کی حلت "اسی طرح میرے نزدیک باجے کی بھی حلت ہے اس میں کوئی امر خلاف شرع نہیں دیکھتے بشر طیکہ نیت میں خلل نہ ہو۔نکاحوں میں بعض وقت جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اور وراثت کے مقدمات ہو جاتے ہیں جب اعلان ہو گیا ہوا ہوتا ہے تو ایسے مقدمات کا انفصال سہل اور آسان ہو جاتا ہے۔اگر نکاح گم صم ہو گیا اور کسی کوخبر بھی نہ ہوئی تو پھر وہ تعلقات بعض اوقات قانو نا نا جائز سمجھے جاکر اولا دمحروم الارث قرار دیدی جاتی ہے۔ایسے امور صرف جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہیں کیونکہ ان سے شرع کی قضایا فیصل ہو جاتے ہیں۔یہ لڑ کے جو پیدا ہوتے رہتے ہیں بعض وقت ان کے عقیقہ پر ہم نے دودو ہزار آدمی کو دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہماری غرض اس سے یہی تھی کہ تا اس پیشگوئی کا جو ہر ایک کے پیدا ہونے سے پہلے کی گئی تھی بخوبی اعلان ہو جاوے۔" الحکم نمبر 14 جلد 7 مؤرخہ 17 را پریل 1903ء صفحہ 2) (۳۷۹) مسئلہ کفر و اسلام سوال ہوا کہ ابتداء میں بھی مسلمانوں کے درمیان آپس میں عداوت اور دشمنیاں ہوتی رہی ہیں اور اختلاف رائے بھی ہوتا رہا ہے مگر باوجود اس کے ہم کسی کو کا فرنہیں کہہ سکتے۔حضرت اقدس نے فرمایا:۔یہ تو شیعوں کا مذہب ہے کہ صحابہ کے درمیان آپس میں ایسی سخت دشمنی تھی یہ غلط ہے۔اللہ تعالیٰ