فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 270
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جواب:۔" جائز ہے۔" 270 گذشتہ دسمبر میں جمعہ کے روز کثرت آدمیوں کے سبب اور قبل از نماز ایک عظیم الشان دینی جلسہ میں شمولیت کے سبب کھانا بھی نہ کھا چکے تھے اور نماز جمعہ بھی کسی قدر پچھلے وقت میں ہو سکا اس واسطے حسب الحکم حضرت مسیح موعود جمعہ کے ساتھ نماز عصر جمع کی گئی تھی۔اخبار بدر نمبر 4 جلد 2 مؤرخہ 26 جنوری 1906 صفحہ 6) (۳۶۱) کیا وظیفہ پڑھیں ایک شخص نے پوچھا کہ میں کیا وظیفہ پڑھا کروں۔فرمایا:۔" استغفار بہت پڑھا کرو۔انسان کی دوہی حالت ہیں یا تو وہ گناہ نہ کرے اور یا اللہ تعالیٰ اس گناہ کے بد انجام سے بچالے۔سو استغفار پڑھنے کے وقت دونوں معنوں کا لحاظ رکھنا چاہئے ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ سے گذشتہ گناہوں کی پردہ پوشی چاہے اور دوسرا یہ کہ خدا سے تو فیق چاہے کہ آئندہ گنا ہوں سے بچالے۔مگر استغفار صرف زبان سے پورا نہیں ہوتا بلکہ دل چاہے۔نماز میں اپنی زبان میں بھی دعا مانگو یہ ضروری ہے۔" الحکم نمبر 29 جلد 5 مؤرخہ 10 راگست 1901 ، صفحہ 3) (۳۶۲) روزه جہاں چھ ماہ تک سورج نہیں چڑھتا۔روزہ کیونکر رکھیں؟ فرمایا:۔اگر ہم نے لوگوں کی طاقتوں پر ان کی طاقتوں کو قیاس کرنا ہے تو انسانی قوی کی جڑھ جو حمل کا زمانہ ہے مطابق کر کے دکھلانا چاہئے پس ہمارے حساب کی اگر پابندی لازم ہے تو ان بلاد میں صرف ڈیڑھ دن میں حمل ہونا چاہئے اور اگر ان کے حساب کی تو دو سو چھیاسٹھ برس تک بچہ پیٹ میں رہنا چاہئے اور یہ ثبوت آپ کے ذمہ ہے۔حمل صرف ڈیڑھ دن تک رہتا ہے لیکن دوسو چھیاسٹھ برس کی حالت میں یہ تو ماننا کچھ بعید از قیاس نہیں کہ وہ چھ ماہ تک روزہ بھی رکھ سکتے ہیں کیونکہ ان کے دن کا یہی مقدار ہے اور اس کے مطابق ان کے قومی بھی ہیں۔" جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 277 مطبوعہ نومبر 1984ء)