فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 269

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 269 " نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت علی اللہ کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ہمیں نماز معاف فرما دی جاوے کیونکہ ہم کا روباری آدمی ہیں مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو جب نماز نہیں تو ہے ہی کیا۔وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔جو شخص نماز ہی سے فراغت حاصل کرنی چاہتا ہے اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا۔وہی کھانا پینا اور حیوانوں کی طرح سور ہنا یہ تو دین ہرگز نہیں یہ سیرت کفار ہے بلکہ جو دم غافل وہ دم کا فر والی بات بالکل راست اور صحیح ہے۔" فرمایا:۔احکم نمبر 12 جلد 7 مؤرخہ 31 / مارچ 1903 ء صفحہ 8,7) (۳۵۸) نماز اشراق پیغمبر خدا علی اللہ سے اشراق پر مداومت ثابت نہیں۔تہجد کے فوت ہونے پر یا سفر سے واپس آ کر پڑھنا ثابت ہے۔لیکن تعبد میں کوشش کرنا اور کریم کے دروازہ پر پڑے رہنا عین سنت ہے۔وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔" مکتوبات احمد یہ جلد اوّل صفحہ 20 مطبوعہ دسمبر 1908ء) (۳۵۹) حسب ضرورت دوبارہ جماعت نماز سوال پیش ہوا کہ جہاں ایک دفعہ نماز ہو جاوے وہاں اسی نماز کے واسطے دوبارہ جماعت ہو سکتی ہے یا نہیں؟ فرمایا:۔" اس میں کچھ حرج نہیں۔حسب ضرورت اور جماعت بھی ہو سکتی ہے۔" ( اخبار بدر نمبر 1 جلد 6 مؤرخہ 10 / جنوری 1907 ء صفحہ 18 ) (۳۶۰) نماز جمعہ کے ساتھ عصر جمع کرنا سوال:۔کیا کسی شرعی ضرورت کے واسطے نماز جمعہ کے ساتھ ہی نماز عصر جمع جائز ہے؟