فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 268
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 268 "وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ اَوْجَاءَ اَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْلَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيْدًا طَيِّبًا (المائده : 7) یعنی اگر تم مریض ہو یا سفر پر یا پاخانہ سے آؤ یا عورتوں سے مباشرت کرو اور پانی نہ ملے تو ان سب صورتوں میں پاک مٹی سے تیم کرو۔" شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 332,331 مطبوعہ نومبر 1984ء) فرمایا:۔(۳۵۵) نماز خوف "اگر تمہیں خوف ہو تو نماز پیروں سے چلتے چلتے یا سوار ہونے کی حالت میں پڑھ لو۔" (شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 336 مطبوعہ نومبر 1984ء) (۳۵۶) محلہ اہل ہنود میں مسجد کو ترک کرنا یا آباد کرنا چاہئے ایک خط حضرت حکیم الامت کی خدمت میں بدیں مضمون آیا تھا کہ ایک مسجد اہل ہنود کے محلہ میں واقع ہے اور وہ بالکل ویران ہے۔ہمارا ارادہ ہے کہ اس مسجد کو فروخت کر کے اس کے روپیہ سے ایک اور مسجد کسی مناسب موقع پر بنادی جاوے۔حضرت حکیم الامت نے وہ خط حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش کیا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ: " ہمارے خیال میں بجائے دوسری جگہ مسجد بنانے کے اسی کو آباد کرنا اور نماز کی پابندی سے اسی مسجد کو رونق دینا باعث ثواب ہے۔" فرمایا کہ:۔" آج ہی سیر سے واپس آتے ہوئے ہمارے دل میں بڑی مسجد کو دیکھ کر خیال آیا کہ اگر مسجد کے جانب شمال کی دو تین دکانیں مل جاویں تو وہ خرید کر مسجد کو جانب شمال بھی وسیع کر دیا جاوے اس طرح سے ہماری مسجد عین بازار کے چوک میں آجاوے گی۔" الحکم نمبر 19 جلد 12 مؤرخہ 14 / مارچ 1908 ، صفحہ 4) (۳۵۷) مال مویشی رکھنے والوں کی نماز ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور نماز کے متعلق ہمیں کیا حکم ہے۔فرمایا:۔