فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 266
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 266 طرف سے ملا جیسا آدم اور ابراہیم اور موسیٰ اور داؤد اور یحیٰ اور ہمارے نبی صلی اللہ اور دوسرے انبیاء کو ملا تھا۔ایسا ہی ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ ضرور دنیا میں دوبارہ آنے والے تھے۔جیسا کہ آگئے۔صرف فرق یہ ہے کہ جیسا کہ قدیم سے سنت اللہ ہے ان کا آنا صرف بروزی طور پر ہوا جیسا کہ الیاس نبی دوبارہ دنیا میں بروزی طور پر آیا تھا۔پس سوچنا چاہئے کہ اس قلیل اختلاف کی وجہ سے جو ضرور ہونا چاہئے تھا اس قدر شور مچانا کس قدر تقویٰ سے دور ہے۔آخر جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم بن کر آیا، ضرور تھا کہ جیسا کہ لفظ حکم کا مفہوم ہے کچھ غلطیاں اس قوم کی ظاہر کرتا جن کی طرف وہ بھیجا گیا۔اور نہ اس کا حکم کہلا نا باطل ہوگا۔اب زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔میں اپنے مخالفوں کو صرف یہ کہہ کر کہ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمُ إِنِّى عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (الانعام : ۱۳۶ )۔اس اعلان کو ختم کرتا ہوں۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الهُدَى _ " ( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 544 تا 547 مطبوعہ اپریل 1986 ء ) (۳۵۱) نماز کپڑے وغیرہ پر سے ذرہ بھر نجاست کو بھی دھونے کا راز فرمایا:۔امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی بابت لکھا ہے کہ آپ ایک مرتبہ بہت ہی تھوڑی سی نجاست جوان کے کپڑے پر تھی دھو رہے تھے۔کسی نے کہا کہ آپ نے اس قدر کے لئے تو فتویٰ نہیں دیا۔اس پر آپ نے کیا لطیف جواب دیا کہ:۔آن فتوی است و این تقوی پس انسان کو دقائق تقوی کی رعایت رکھنی چاہئیے سلامتی اسی میں ہے۔اگر چھوٹی چھوٹی باتوں کی پرواہ نہ کرے تو پھر ایک دن وہی چھوٹی چھوٹی باتیں کبائر کا مرتکب بنا دیں گی اور طبیعت میں کسل اور لا پرواہی پیدا ہو کر ہلاک ہو جائے گا۔تم اپنے زیر نظر تقویٰ کے اعلیٰ مدارج کو حاصل کرنا رکھو اور اس کیلئے ودقائق تقومی کی رعایت ضروری ہے۔" (احکام نمبر 39 جلد 9 مؤرخہ 10 رنومبر 1905ء صفحہ 5)