فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 265

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 265 میں خدا کی وحی کی طرف ان کو منسوب کرتا ہوں کا ذب اور مفتری ہوں تو میرے ساتھ اس دنیا اور آخرت میں خدا کا وہ معاملہ ہوگا جو کا ذبوں اور مفتریوں سے ہوا کرتا ہے کیونکہ محبوب اور مردود یکساں نہیں ہوا کرتے۔سواے عزیز و! صبر کرو کہ آخر وہ امر جو خفی ہے کھل جائے گا۔خدا جانتا ہے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اور وقت پر آیا ہوں۔مگر وہ دل جو سخت ہو گئے اور وہ آنکھیں جو بند ہوگئیں میں ان کا کیا علاج کر سکتا ہوں۔خدا میری نسبت اشارہ کر کے فرماتا ہے کہ " دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دیگا۔" پس جب کہ خدا نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ زور آور حملوں سے میری سچائی ظاہر کرے گا تو اس صورت میں کیا ضرورت ہے کہ کوئی شخص میری جماعت میں سے خدا کا کام اپنے گلے ڈال کر میرے مخالفوں پر نا جائز حملے شروع کرے۔نرمی کرو اور دعا میں لگے رہو اور کچی تو بہ کو اپنا شفیع ٹھہراؤ اور زمین پر آہستگی سے چلو۔خدا کسی قوم کا رشتہ دار نہیں ہے اگر تم نے اس کی جماعت کہلا کر تقویٰ اور طہارت کو اختیار نہ کیا اور تمہارے دلوں میں خوف اور خشیت پیدا نہ ہوا تو یقیناً سمجھو کہ خدا تمہیں مخالفوں سے پہلے ہلاک کرے گا کیونکہ تمہاری آنکھ کھولی گئی اور پھر بھی تم سو گئے۔اور یہ مت خیال کرو کہ خدا کو تمہاری کچھ حاجت ہے اگر تم اس کے حکموں پر نہیں چلو گے، اگر تم اس کے حدود کی عزت نہیں کرو گے تو وہ تمہیں ہلاک کرے گا اور ایک اور قوم تمہارے عوض لائے گا جو اس کے حکموں پر چلے گی۔اور میرے آنے کی غرض صرف یہی نہیں کہ میں ظاہر کروں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔یہ تو مسلمانوں کے دلوں پر سے ایک روک کا اُٹھانا اور سچا واقعہ ان پر ظاہر کرنا ہے بلکہ میرے آنے کی اصل غرض یہ ہے کہ تا مسلمان خالص تو حید پر قائم ہو جائیں اور ان کو خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو جائے اور ان کی نماز میں اور عبادتیں ذوق اور احسان سے ظاہر ہوں اور ان کے اندر سے ہر ایک قسم کا گند نکل جائے۔اور اگر مخالف سمجھتے تو عقائد کے بارے میں مجھ میں اور ان میں کچھ بڑا اختلاف نہ تھا مثلاً وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام مع جسم آسمان پر اُٹھائے گئے۔سو میں بھی قائل ہوں کہ جیسا کہ آیت إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ (آل عمران : ۵۶) کا منشا ہے۔بے شک حضرت عیسی بعد وفات مع جسم آسمان پر اُٹھائے گئے۔صرف فرق یہ ہے کہ وہ جسم عصری نہ تھا بلکہ ایک نورانی جسم تھا جو ان کو اسی طرح خدا کی