فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 14
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 14 يَقْضِي عَدَمَ كَوْنِهِ فِى الْقُرْآن وَلِهَذَا قَالَ الله فَإِنْ لَّمْ تَجِدُ وَلَمْ يَقُلُ فَإِن لَّمْ يَكُنْ فِى الْكِتَابِ۔اس عبارت مذکورہ بالا میں اس بات کا اقرار ہے کہ ہر ایک امر دین قرآن میں درج ہے۔کوئی چیز اس سے باہر نہیں اور اگر تفاسیر کے اقوال جو اس بات کے موید ہیں بیان کئے جائیں تو اس کیلئے ایک دفتر چاہئے لہذا اصل حق الامر یہی ہے کہ جو چیز قرآن سے باہر یا اس کے مخالف ہے وہ مردود ہے اور احادیث صحیحہ قرآن سے باہر نہیں کیونکہ وحی غیر متلو کی مدد سے وہ تمام مسائل قرآن سے مستخرج اور مستنبط کئے گئے ہیں۔ہاں یہ سچ ہے کہ وہ استخراج اور استنباط بحجز رسول اللہ یا اسی شخص کے جو ظلی طور پر ان کمالات تک پہنچ گیا ہو ہر یک کا کام نہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جن کو ظلی طور پر عنایات الہیہ نے وہ علم بخشا ہو جو اس کے رسول متبوع کو بخشا تھا وہ حقائق و معارف دقیقہ قرآن کریم پر مطلع کیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ کا وعدہ ہے۔لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُون (الواقعہ: 80) اور جیسا کہ وعدہ ہے يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَاءُ وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْراً كَثِيراً (البقرہ: 270) اس جگہ حکمت سے مراد علم قرآن ہے۔سو ایسے لوگ وحی خاص کے ذریعہ سے علم اور بصیرت کی راہ سے مطلع کئے جاتے ہیں اور صحیح اور موضوع میں اس خاص طور کے قاعدہ سے تمیز کر لیتے ہیں۔گو عوام اور علمائے ظواہر کو اس کی طرف راہ نہیں لیکن ان کا اعتقاد بھی تو یہی ہونا چاہئے کہ قرآن کریم بے شک احادیث مرویہ کیلئے بھی معیار اور محک ہے۔" الحق مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 90 تا 92 مطبوعہ نومبر 1984ء) (۱۰) مسیح موعود کی بعثت کی غرض ( از حضرت مسیح موعود علیہ السلام) افْتَرَقَتِ الْأُمَّةُ وَتَشَاجَرَتِ الْمِلَّةَ فَمِنْهُمْ حَنْبَلِيٌّ وَشَافِعِيٌّ وَ مَالِكِيٌّ وَ حَنَفِيٌّ وَحِزْبُ الْمُتَشَعِيْنَ وَلَا شَكٍّ أَنَّ التَّعْلِيْمَ كَانَ وَاحِدًا وَلَكِنِ اخْتَلَفَتِ الْأَحْزَابُ بَعْدَ ذلِكَ فَتَرَوْنَ كُلَّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحِيْنَ۔وَكُلُّ فِرْقَةٍ بَنِى لِمَذْهَبِهِ قَلْعَةً وَلَا يُرِيْدُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهَا وَلَوْ وَجَدَ أَحْسَنَ مِنْهَا صُوْرَةً وَكَانُوْا لِعِمَاسِ إِخْوَانِهِمْ مُتَحَصِنِيْنَ