فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 13

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 13 ماننے کے لائق نہیں؟ اور اگر یہ سب باتیں سچ ہیں تو کیا مومن کیلئے ضروری نہیں جو ان پر ایمان لاوے اور زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرے؟ اور واقعی طور پر اپنا یہ اعتقادر کھے کہ حقیقت میں قرآن کریم معیار اور حکم اور امام ہے۔لیکن محجوب لوگ قرآن کریم کے دقیق اشارات اور اسرار کی تہ تک نہیں پہنچ سکتے اور اس سے مسائل شرعیہ کا استنباط اور استخراج کرنے پر قادر نہیں اس لئے وہ احادیث صحیحہ نبویہ کو اس نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ گویا وہ قرآن کریم پر کچھ زواید بیان کرتی ہیں یا بعض احکام میں ان کی ناسخ ہیں۔اور نہ زواید بیان کرتی ہیں بلکہ قرآن شریف کے بعض مجمل اشارات کی شارح ہیں۔قرآن کریم آپ فرماتا ہے مَانَفُسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنَسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا (البقره: 107 ) یعنی کوئی آیت ہم منسوخ یا منسی نہیں کرتے جس کے عوض دوسری آیت ویسی ہی یا اس سے بہتر نہیں لاتے۔پس اس آیت میں قرآن کریم نے صاف فرما دیا ہے کہ نسخ آیت کا آیت سے ہی ہوتا ہے۔اسی وجہ سے وعدہ دیا ہے کہ نسخ کے بعد ضرور آیت منسوخہ کی جگہ آیت نازل ہوتی ہے۔ہاں علماء نے مسامحت کی راہ سے بعض احادیث کو بعض آیات کی ناسخ ٹھہرایا ہے جیسا کہ حنفی فقہ کی رو سے مشہور حدیث سے آیت منسوخ ہو سکتی ہے مگر امام شافعی اس بات کا قائل ہے کہ متواتر حدیث سے بھی قرآن کا نسخ جائز نہیں اور بعض محدثین خبر واحد سے بھی نسخ آیت کے قائل ہیں لیکن قائلین نسخ کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر حدیث سے آیت منسوخ ہو جاتی ہے بلکہ وہ لکھتے ہیں کہ واقعی امر تو یہی ہے کہ قرآن پر نہ زیادت جائز ہے اور نہ نسخ کسی حدیث سے۔لیکن ہماری نظر قاصر میں جو استخراج مسائل قرآن سے عاجز ہے۔یہ سب باتیں صورت پذیر معلوم ہوتی ہیں اور حق یہی ہے کہ حقیقی نسخ اور حقیقی زیادت قرآن پر جائز نہیں کیونکہ اس سے اس کی تکذیب لازم آتی ہے۔نورالانوار جو حنفیوں کے اصول فقہ کی کتاب ہے اس کے صفحہ 91 میں لکھا ہے۔رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ الله بَعَثَ مُعَاذاً إِلَى الْيَمَنِ قَالَ لَهُ بِمَا تَقْضِى يَا مُعَاذُ فَقَالَ بِكِتَابِ اللهِ قَالَ فِإِنْ لَّمْ تَجِدْ قَالَ بِسُنَّةِ رَسُوْلِ اللَّهِ قَالَ فَإِنْ لَّمْ تَجِدْ قَالَ اَجْتَهِدُ بِرَأْيِي فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى وَفَّقَ رَسُوْلَهُ بِمَا يَرْضَى به رَسُولُهُ لَا يُقَالُ إِنَّهُ يُنَاقِضُ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالى مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ فَ فِي الْقُرْآنِ فَكَيْفَ يُقَالُ فَإِنْ لَّمْ تَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ لَا نَّا نَقُولُ إِنَّ عَدَمَ الْوَجُدَانِ لَا