فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 258

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 258 کر مثلاً ایک سو گز کے فاصلہ پر جنازہ پڑھیں۔جنازہ ایک دعا ہے اور اس کے واسطے ضروری نہیں کہ انسان میت کے سر پر کھڑا ہو۔جہاں قبرستان دور ہو مثلاً لاہور میں سامان ہو سکے تو کسی گاڑی یا چھکڑے پر میت کو لا د کر لے جاویں اور میت پر کسی قسم کی جزع فزع نہ کی جاوے۔خدا کے فعل پر اعتراض کرنا گناہ ہے۔اس بات کا خوف نہ کرو کہ ایسا کرنے سے لوگ تمہیں بُرا کہیں گے۔وہ پہلے کب تمہیں اچھا کہتے ہیں۔یہ سب باتیں شریعت کے مطابق ہیں اور تم دیکھ لو گے کہ آخر کار وہ لوگ جو تم پر ہنسی کریں گے خود بھی ان باتوں میں تمہاری پیروی کریں گے۔مکررا یہ بہت تاکید ہے کہ جو مکان تنگ اور تاریک ہواور ہوا اور روشنی خوب طور پر نہ آسکے۔اس کو بلا توقف چھوڑ دو کیونکہ خود ایسا مکان ہی خطرناک ہوتا ہے۔گوکوئی چوہا بھی اس میں نہ مرا ہو اور حتی المقدور مکانوں کی چھتوں پر رہو۔نیچے کے مکان سے پر ہیز کرو اور اپنے کپڑوں کو صفائی سے رکھو۔نالیاں صاف کراتے رہو۔سب سے مقدم یہ کہ اپنے دلوں کو بھی صاف کرو اور خدا کے ساتھ پوری صلح کرو۔"" اخبار بدر نمبر 14 جلد 6 مؤرخہ 04 را پریل 1907 صفحه 6,5) (۳۳۸) مسمریزم کیا ہے ایک شخص نے بذریعہ تحریر حضرت مسیح موعود سے دریافت کیا کہ مسمریزم کیا چیز ہے۔حضرت نے جواب میں تحریر فرمایا ہے:۔" مدت ہوئی کہ میں نے مسمریزم کیلئے توجہ کی تھی کہ کیا چیز ہے۔تو خدا کی طرف سے یہ جواب ملا تها هذَا هُوَ التِّرْبُ الَّذِي لَا يَعْلَمُوْنَ " اخبار بدر نمبر 5 جلد 6 مؤرخہ 31 جنوری 1907 ، صفحہ 4) یعنی یہ وہ عمل الترب ہے جس کی اصل حقیقت کی زمانہ حال کے لوگوں کو کچھ خبر نہیں۔" فرمایا:۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 259 حاشیہ، مطبوعہ نومبر 1984ء) (۳۳۹) گاؤں میں جب شدت طاعون ہو تو کیا حکم ہے