فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 253
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہے۔" 253 (۳۲۵) قیام فیما اقام الله ایک شخص نے ملازمت چھوڑ کر تجارت کے متعلق مشورہ پوچھا۔ رہ پوچھا۔ فرمایا:۔ " نوکری چھوڑنی نہیں چاہئے ۔ قیام فیما اقام الله بھی ضروری ہے بلا وجہ ملازمت چھوڑ نا اچھا نہیں الحکم نمبر 40 جلد 6 مؤرخہ 10 نومبر 1902ء صفحہ (11) (۳۲۶) فری میسن امیر کابل کا ذکر تھا کہ اس کے فری میسن ہونے کے سبب اس کی قوم اس پر ناراض ہے۔ فرمایا:۔ " اس ناراضگی میں وہ حق پر ہیں کیونکہ کوئی موحد اور سچا مسلمان فری میسن میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ں کا اصل شعبہ عیسائیت ہے اور بعض مدارج کے حصول کے واسطے کھلے طور پر بپتسمہ لینا ضروری ہوتا ہے اس لئے اس میں داخل ہونا ایک ارتداد کا حکم رکھتا ہے ۔" فرمایا کہ:۔ اخبار بدر نمبر 13 جلد 6 مؤرخہ 28 مارچ 1907 ء صفحہ (9) (۳۲۷) مدارات اور مداہنہ میں فرق " مدارات اسے کہتے ہیں کہ نرمی سے گفتگو کی جاوے تا کہ دوسرے کو ذہن نشین ہوا اور حق کو اس طرح اظہار کرنا کہ ایک کلمہ بھی باقی نہ رہے اور سب ادا ہو جاوے اور مداہنہ اسے کہتے ہیں کہ ڈر کر حق کو چھپالینا۔ کھالینا۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نرمی سے گفتگو کر کے پھر گرمی پر آجاتے ہیں یہ مناسب نہیں ہے۔ حق کو پورا پورا ادا کرنے کے واسطے ایک ہنر چاہئے ۔ وہ شخص بہت بہادر ہے جو کہ ایسی خوبی سے حق کو بیان کرے کہ بڑے غصہ والے آدمی بھی اسے سن لیویں۔ خدا ایسوں پر راضی ہوتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ حق گو سے لوگ راضی نہ ہوں اگر چہ وہ نرمی بھی کرے۔ مگر تاہم درمیان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو اچھا کہنے لگتے ہیں ۔ " ( اخبار بدر نمبر 10 جلد 2 مؤرخہ 27 مارچ 1903ء صفحہ (77)