فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 252

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 252 " مستحسن یہی بات ہے جو شریعت اسلام نے مقرر کی ہے کہ مونچھیں کٹائی جاویں اور داڑھی بڑھائی جاوے۔" ( اخبار بدر نمبر 44 جلد 6 مؤرخہ 31 /اکتوبر 1907 ءصفحہ 07) (۳۲۴) ہندوؤں والی دھوتی باندھنی اور بودی رکھنی و لباس نبوی ایک شخص نے پوچھا کہ کیا ہندوؤں والی دھوتی باندھنی جائز ہے یا نہیں ؟ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔" تشبه بالكفار تو کسی بھی رنگ میں جائز نہیں۔اب ہندو ماتھے پر ایک ٹیکا سا لگاتے ہیں کوئی وہ بھی لگالے یا سر پر بال تو ہر ایک کے ہوتے ہیں مگر چند بال بودی کی شکل میں ہندور کھتے ہیں اگر کوئی ویسے ہی رکھ لیوے تو یہ ہرگز جائز نہیں۔مسلمانوں کو اپنے ہر ایک چال میں وضع قطع میں غیرت مندانہ چال رکھنی چاہئے۔ہمارے آنحضرت نہ بند بھی باندھا کرتے تھے اور سراویل بھی خرید نا آپ کا ثابت ہے جسے ہم پاجامہ یا نمی کہتے ہیں ان میں سے جو چاہے پہنے۔علاوہ ازیں ٹوپی۔کرتہ چادر اور پگڑی بھی آپ کی عادت مبارک تھی جو چاہے پہنے کوئی حرج نہیں۔ہاں البتہ اگر کسی کو کوئی نئی ضرورت در پیش آئے تو اسے چاہئے کہ ان میں ایسی چیز کو اختیار کرے جو کفار سے تشبیہ نہ رکھتی ہو اور اسلامی لباس سے نزدیک تر ہو۔جب ایک شخص اقرار کرتا ہے کہ میں ایمان لایا تو پھر اس کے بعد وہ ڈرتاکس چیز سے ہے اور وہ کونسی چیز ہے جس کی خواہش اب اس کے دل میں باقی رہ گئی ہے کیا کفار کی رسوم و عادت کی؟ اب اسے ڈر چاہئے تو خدا کا اور اتباع چاہئے تو محمد رسول اللہ کی کسی ادنیٰ سے گناہ کو خفیف نہ جانا چاہئے بلکہ صغیرہ ہی سے کبیرہ بن جاتے ہیں اور صغیرہ ہی کا اصرار کبیرہ ہے۔ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے ایسی فطرت ہی نہیں دی کہ ان کے لباس یا پوشش سے فائدہ اُٹھا ئیں۔سیالکوٹ سے ایک دو بار انگریزی جوتا آیا ہمیں اس کا پہنا ہی مشکل ہوتا تھا کبھی ادھر کا اُدھر اور کبھی بائیں کا دائیں۔آخر تنگ آ کر سیاہی کا نشان لگایا گیا کہ شناخت رہے مگر اس طرح بھی کام نہ چلا آخر میں نے کہا کہ یہ میری فطرت ہی کے خلاف ہے کہ ایسا جوتا پہنوں۔" الحکم نمبر 14 جلد 7 مؤرخہ 17 اپریل 1903 صفحہ 8)