فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 251
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 251 ایسا نہ ہو تو پھر چار پائے کمزور ہوں گے اور دنیا کے کام بخوبی نہ چل سکیں گے اس لئے میرے نزدیک تو حرج کی بات نہیں۔ہر ایک عمل نیت پر موقوف ہے۔ایک ہی کام جب کسی غیر اللہ کے نام پر ہو تو حرام اور اگر اللہ تعالیٰ کیلئے ہو تو حلال ہو جاتا ہے۔" ( اخبار بدر نمبر 31 جلد 6 مؤرخہ یکم اگست 1907 ء صفحہ 12 ) (۳۲۲) لباس عرب صاحب نے انگریزی قطع وضع کے متعلق ذکر کیا۔آپ نے فرمایا :۔انسان کو جیسے باطن میں اسلام دکھانا چاہئے ویسے ہی ظاہر میں بھی۔ان لوگوں کی طرح نہیں ہونا چاہئے جو انگریزی لباس کو یہاں تک اختیار کرتے ہیں کہ عورتوں کو بھی اس لباس اور وضع میں رکھنا پسند کرتے ہیں۔جو شخص ایک قوم کے لباس کو پسند کرتا ہے تو پھر وہ آہستہ آہستہ اس قوم کو اور پھر دوسرے اوضاع و اطوار حتی کہ مذہب کو بھی پسند کرنے لگتا ہے۔اسلام نے سادگی کو پسند فرمایا ہے تکلفات سے منع کیا۔" الحکم نمبر 3 جلد 7 مؤرخہ 24 جنوری 1903 ء صفحہ 13 ) (۳۲۳) داڑھی یعنی ریش کا رکھنا عرب صاحب نے داڑھی کے متعلق پوچھا۔فرمایا:۔یہ ہر ایک انسان کے دل کا خیال ہے۔بعض داڑھی مونچھ منڈوانے کو خوبصورتی سمجھتے ہیں مگر ہمیں اس میں ایسی سخت کراہت ہے کہ سامنے ہو تو کھانا کھانے کو جی نہیں چاہتا۔داڑھی کا جو طریق انبیاء اور راستبازوں نے اختیار کیا ہے وہ بہت پسندیدہ ہے۔البتہ اگر بہت لمبی ہو تو ایک مشت رکھ کر کٹوا دینی چاہئے۔خدا نے یہ ایک امتیاز عورت اور مرد کے درمیان رکھ دیا ہے۔" الحکم نمبر 3 جلد 7 مؤرخہ 24 / جنوری 1903 ، صفحہ 13 داڑھی اور مونچھ کے متعلق ذکر آیا کہ نئے نئے فیشن نکلتے ہیں۔کوئی داڑھی منڈاتا ہے۔کوئی ہر دو داڑھی اور مونچھ منڈاتا ہے۔حضرت نے فرمایا:۔