فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 247

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 247 صاحب کو کہلا بھیجا کہ روپیہ تو میں لے چکا اب جو مرضی ہو کرو میں نہیں دیتا۔لینا ہے تو عدالت میں نالش کرو۔ڈپٹی صاحب اب ایسے بڑھاپے میں نالش کس طرح کرتے اور کرتے۔۔تو اپنی بے عزتی ہوتی چپ ہور ہے۔غرض یہ سب بیہودہ ہے۔کیمیا کی مرض پہلے زمانہ میں تو عام طور پر تھی اور ہنود اس میں مدت سے پھنسے ہوئے تھے مگر افسوس بعض تعلیم یافتہ لوگ بھی اب تک اس کے دلدادہ ہیں۔اسلام اس کو بالکل ناجائز قرار دیتا ہے اور قرآن شریف سے ثابت ہے کہ رزق کریم متقی کو ضرور ملتا ہے اور وہ رزق جس سے فائدہ پہنچے کریم ہی ہوتا ہے ورنہ بہت سے ایسے مال ہوتے ہیں جو نا جائز طریقوں سے کمائے جاتے ہیں اور ناجائز باتوں میں اور فضول رسومات میں اُٹھ جاتے ہیں حالانکہ محنت اور نیکی سے کمایا ہوا رو پید اپنے اصل موقعہ پر خرچ ہوتا ہے جیسا کہ ان دو بھائیوں کے قصے سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے اَبُوْهُمَا صَالِحاً کی وجہ سے دو نبیوں کو اس بات پر مامور کیا کہ اس روپیہ کی حفاظت کیلئے جو کہ نیکی اور تقویٰ سے کمایا ہوا تھا ایک دیوار بنا ئیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فِی السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ۔فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقِّ مِثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ یعنی ہر ایک انسانوں کو خدا تعالیٰ اپنے پاس سے روزی دیتا ہے۔حضرت داؤد کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور بوڑھا ہو گیا ہوں مگر آج تک میں نے کسی صالح کی اولا دکو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا۔اسی طرح (توریت) میں ہے کہ نیک بخت انسان کا اثر اس کی سات پشت تک جاتا ہے۔پھر قرآن مجید میں بھی ہے کہ كَانَ اَبُوهُمَا صَالِحاً یعنی ان کا باپ صالح تھا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کا خزانہ محفوظ رکھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکے کچھ ایسے نیک نہ تھے۔باپ کی نیکی کی وجہ سے بچائے گئے۔پس انسان کیلئے متقی اور نیک بننا کیمیا گر سے بہت بہتر ہے۔اس کیمیا گری میں تو روپیہ ضائع ہوتا ہے مگر اس کیمیا گری میں دین بھی اور دنیا بھی دونوں سدھر جاتے ہیں۔افسوس ہے کہ ان لوگوں پر جو ساری عمر یو نہی فضول ضائع کر دیتے ہیں اور کیمیا کی تلاش میں ہی مر جاتے ہیں۔حالانکہ اس کو چہ میں سوائے نقصان مال اور نقصان ایمان اور کچھ نہیں اور ایسا شخص یکے نقصان مایہ و دیگر شمامت ہمسایہ کا مستحق ٹھہرتا ہے۔اصل کیمیا تقویٰ ہے جس نے اس کو حاصل کر لیا اس نے سب کچھ حاصل کر لیا اور جس نے اس نسخہ کو نہ آزمایا اس نے اپنی عمر ضائع کی۔اگر کیمیا واقعی ہو بھی تو