فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 12
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 12 چاہئیے اور عربی خوانی کی استعداد۔پھر ایسے اشخاص کو حسب رائے موحدین کسی امام کی ضرورت نہیں۔اور فرقہ مقلدین اس قدر تقلید میں غرق ہیں کہ وہ تقلید اب بت پرستی کے رنگ میں ہوگئی ہے۔غیر معصوم لوگوں کے اقوال حضرت سید نا رسول اللہ علیم اللہ کے قول کے برابر سمجھے جاتے ہیں۔صد ہا بدعات کو دین میں داخل کر لیا ہے۔قراءۃ فاتحہ خلف الامام اور آمین بالجہر پر یوں چڑتے ہیں جس طرح ہمارے ملک کے ہندو بانگ نماز پر۔خوب جانتے ہیں کہ لَا صَلوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ حديث صحيح ہے اور قرآن کریم فاتحہ سے ہی شروع ہوا ہے۔مگر پھر اپنی ضد کو نہیں چھوڑتے۔پس اس تنازع میں فیصلہ یہ ہے کہ اہل بصیرت اور معرفت اور تقویٰ اور طہارت کے قول اور فعل کی اس حد تک تقلید ضروری ہے جب تک کہ بہداہت معلوم نہ ہو کہ اس شخص نے عمد یا سہواً قرآن اور احادیث نبویہ کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ ہر ایک نظر دقائق دنیا تک پہنچ نہیں سکتی لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ - مطہر کا دامن پکڑ نا ضروری ہے۔مگر ساتھ ہی یہ شرط ہے کہ وہ شخص جس کی ان شرطوں کے ساتھ تقلید کی جاوے معضلات دین جو حالات موجودہ زمانہ کے موافق پیش آویں اس سے حل کر سکیں۔اسی کی طرف اشارہ صداقت مَنُ لَم يَعْرِفُ اِمَامَ زَمَانِهِ الخ کرتی ہے۔ہاں جس قدر ائمہ اربعہ رضی اللہ عنہم یا ان کے شاگردوں نے دین میں کوشش کی ہے حتی المقدور ان کی کوششوں سے فائدہ اُٹھانا چاہئے اور ان بزرگوں کے اجتہادات کو نیک ظن کے ساتھ دیکھنا چاہئے۔ان کا شکر کرنا چاہئے اور تعظیم اور نیکی کے ساتھ ان کو یاد کرنا چاہئے اور ان کی عزت اور قبولیت کو رد نہیں کرنا چاہئے۔فرمایا:۔{ ( فتاوی احمدیہ صفحہ ۵ ایڈیشن اول ) ( یہ اقتباس تا حال اصل ماخذ سے نہیں مل سکا ) (۹) قرآن میں حقیقی نسخ وحقیقی زیادت جائز نہیں " کیا اس سبحانہ نے قرآن کریم کا نام عام طور پر قول فصل اور فرقان اور میزان اور امام اور نور نہیں رکھا؟ اور کیا اس کو جمیع اختلافات کے دور کرنے کا آلہ نہیں ٹھہرایا ؟ اور کیا یہ نہیں فرمایا کہ اس میں ہر ایک چیز کی تفصیل ہے؟ اور ہر ایک امر کا بیان ہے۔اور کیا یہ نہیں لکھا کہ اس کے فیصلہ کے مخالف کوئی حدیث