فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 244

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 244 ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے بعض کھلے کھلے افعال بعض چھپے ہوئے افعال پر گواہ ہیں۔اس لئے اس نے قسم کے رنگ میں اپنے افعال بدیہیہ کو اپنے افعال نظریہ کے ثبوت میں جابجا قرآن کریم میں پیش کیا اور اس کی نسبت یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے غیر اللہ کی قسم کھائی۔کیونکہ وہ در حقیقت اپنے افعال کی قسم کھاتا ہے نہ کسی غیر کی اور اس کے افعال اس کے غیر نہیں ہیں مثلاً اس کا آسمان یا ستارہ کی قسم کھانا اس قصد سے نہیں ہے کہ وہ کسی غیر کی قسم ہے بلکہ اس نیت سے ہے کہ جو کچھ اس کے ہاتھوں کی صنعت اور حکمت آسمان اور ستاروں میں موجود ہے اس کی شہادت بعض اپنے افعال مخفیہ کے سمجھانے کیلئے پیش کرے۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد نمبر 5 صفحہ 94 تا 97 حاشیہ، مطبوعہ نومبر 1984 ء ) (۳۱۴) قرآن شریف خوش الحانی سے پڑھنا حضرت سیر کے واسطے تشریف لے گئے خدام ساتھ تھے۔حافظ محبوب الرحمن صاحب جو کہ اخویم منشی حبیب الرحمن صاحب رئیس حاجی پورہ اور بھائی جان منشی ظفر احمد صاحب کے عزیزوں میں سے ہیں ساتھ تھے۔حضرت نے حافظ صاحب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ:۔یہ قرآن شریف اچھا پڑھتے ہیں اور میں نے اسی واسطے ان کو یہاں رکھ لیا ہے کہ ہر روز ان سے قرآن شریف سنا کریں گے۔مجھے بہت شوق ہے کہ کوئی شخص عمدہ صحیح خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنے والا ہو تو اس سے سنا کروں۔" پھر حافظ صاحب موصوف کو مخاطب کر کےحضرت نے فرمایا کہ:۔" آج آپ سیر میں کچھ سنائیں۔" چنانچہ تھوڑی دور جا کر آپ نہایت سادگی کے ساتھ ایک کھیت کے کنارے زمین پر بیٹھ گئے اور تمام خدام بھی زمین پر بیٹھ گئے اور حافظ صاحب نے نہایت خوش الہانی سے سورۂ دہر پڑھی۔جس کے بعد آپ سیر کے واسطے آگے تشریف لے گئے۔" ( اخبار بدر نمبر 17 جلد 6 مؤرخہ 25 را پریل 1907 ء صفحہ 7)