فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 239
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 239 (۳۰۶) صدقہ کی جنس خرید لینا جائز ہے ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ میں مرغیاں رکھتا ہوں اور ان کا دسواں حصہ خدا کے نام پر دیتا ہوں اور گھر سے روزانہ تھوڑا تھوڑا آٹا صدقہ کے واسطے الگ کیا جاتا ہے۔کیا یہ جائز ہے کہ وہ چوزے اور وہ آٹا خود ہی خرید کرلوں اور اس کی قیمت مد متعلقہ میں بھیج دوں۔فرمایا:۔"ایسا کرنا جائز ہے۔" نوٹ:۔لیکن اس میں یہ خیال کر لینا چاہئے کہ اعمال نیت پر موقوف ہیں۔اگر کوئی شخص ایسے اشیاء کو اس واسطے خود ہی خرید کر لے گا کہ چونکہ خرید اور فروخت ہر دو اس کے اپنے ہاتھ میں ہیں جیسی تھوڑی قیمت سے چاہے خرید لے تو یہ اس کے واسطے گناہ ہوگا۔فرمایا:- البدر نمبر 43 جلد 6 مؤرخہ 24 /اکتوبر 1907 ء صفحه (3) (۳۰۷) حرمت خنزیر ایک نکتہ اس جگہ یا درکھنے کے لائق ہے اور وہ نکتہ یہ ہے کہ خنزیر جو حرام کیا گیا ہے خدا نے ابتدا سے اس کے نام میں ہی حرمت کی طرف اشارہ کیا ہے۔کیونکہ خنزیر کا لفظ خنز اور اَز سے مرکب ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ میں اس کو بہت فاسد اور خراب دیکھتا ہوں۔خنز کے معنے بہت فاسد اور از کے معنے دیکھتا ہوں۔پس اس جانور کا نام جو ابتدا سے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو ملا ہے وہی اس کی پلیدی پر دلالت کرتا ہے اور عجیب اتفاق یہ ہے کہ ہندی میں اس جانور کو سو ر کہتے ہیں۔یہ لفظ بھی سوء اور ان سے مرکب ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ میں اس کو بہت بُرا دیکھتا ہوں۔اس سے تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ سوء کا لفظ عربی کیونکر ہو سکتا ہے کیونکہ ہم نے اپنی کتاب منن الرحمن میں ثابت کیا ہے کہ تمام زبانوں کی ماں عربی زبان ہے اور عربی کے لفظ ہر ایک زبان میں نہ ایک دو بلکہ ہزاروں ملے ہوئے ہیں۔سوسو رعربی لفظ ہے۔اسی لئے ہندی میں سور کا ترجمہ بد ہے۔پس اس جانور کو بد کہتے ہیں۔اس میں کچھ شک نہیں معلوم ہوتا کہ اس زمانہ میں جب کہ تمام دنیا کی زبان عربی تھی۔اس ملک میں یہ نام