فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 228

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 228 فرمایا:- (۲۹۳) حقہ وغیرہ پر نصیحت " حدیث میں آیا ہے مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيْهِ یعنی اسلام کا حسن یہ بھی ہے کہ جو چیز ضروری نہ ہو وہ چھوڑ دی جاوے۔اسی طرح پر یہ پان۔حقہ۔زردہ ( تمباکو ) افیون وغیرہ ایسی ہی چیزیں ہیں۔بڑی سادگی یہ ہے کہ ان چیزوں سے پر ہیز کرے کیونکہ اگر کوئی اور بھی نقصان ان کا بفرض محال نہ ہو تو بھی اس سے ابتلا آ جاتے ہیں اور انسان مشکلات میں پھنس جاتا ہے۔مثلاً قید ہو جاوے تو روٹی تو ملے گی لیکن بھنگ چرس یا اور منشی اشیاء نہیں دی جاوے گی یا اگر قید نہ ہو کسی ایسی جگہ میں ہو جو قید کے قائمقام ہو تو پھر بھی مشکلات پیدا ہو جاتے ہیں۔عمدہ صحت کو کسی بیہودہ سہارے سے کبھی ضائع کرنا نہیں چاہئے۔شریعت نے خوب فیصلہ کیا ہے کہ ان مضر صحت چیزوں کو مضر ایمان قرار دیا ہے اور ان سب کی سردار شراب ہے۔یہ سچی بات ہے کہ نشوں اور تقویٰ میں عداوت ہے۔افیون کا نقصان بھی بہت بڑا ہوتا ہے۔طبی طور پر یہ شراب سے بھی بڑھ کر ہے اور جس قدر قوی لے کر انسان آیا ہے ان کو ضائع کر دیتی ہے۔" الحکم نمبر 24 جلد 6 مؤرخہ 10 / جولائی 1902 صفحہ 3) (۲۹۴) تمباکو تمبا کو ہم مسکرات میں داخل نہیں کرتے لیکن یہ ایک لغو فعل ہے اور مومن کی شان ہے وَالَّذِینَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُون۔اگر کسی کوکوئی طبیب بطور علاج بتائے تو ہم منع نہیں کرتے ورنہ یہ لغو اور اسراف کا فعل ہے اور اگر آنحضرت علی اللہ کے وقت میں ہوتا تو آپ اپنے اور صحابہ کیلئے کبھی پسند نہ عليه فرماتے۔" الحکم نمبر 11 جلد 7 مؤرخہ 24 / مارچ 1903 ، صفحہ 7) سنن ترمذى كتاب الزهد باب فيمن تكلم بكلمة يضحك بها الناس (حاشیه از ناقل بابت ۲۹۴)