فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 227

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 227 (۲۹۱) ہندوؤں کے ہاتھ کا کھانا ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا ہندوؤں کے ہاتھ کا کھانا درست ہے؟ فرمایا:۔"شریعت نے اس کو مباح رکھا ہے۔ایسی پابندیوں پر شریعت نے زور نہیں دیا بلکہ شریعت نے تو قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا پر زور دیا ہے۔آنحضرت علی الله آرمینوں کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیزیں کھا لیتے السلام تھے اور بغیر اس کے گزارا بھی تو نہیں ہوتا ہے۔" احکم نمبر 19 جلد 8 مؤرخہ 10 / جون 1904 صفحہ 3) (۲۹۲) چھری کانٹے سے کھانا چھری کانٹے سے کھانے کے متعلق فرمایا کہ:۔" اسلام نے منع تو نہیں فرمایا ہاں تکلف سے ایک بات یا ایک فعل پر زور دینے سے منع کیا ہے۔اس خیال سے کہ اس قوم میں مشابہت نہ ہو جاوے ورنہ یوں تو ثابت ہے کہ آنحضرت علی اللہ نے چھری سے گوشت کاٹ کر کھایا اور یہ فعل اس لئے کیا کہ امت کو تکلیف نہ ہو۔جائز صورتوں پر کھانا جائز ہے مگر بالکل اس کا پابند ہونا، تکلف کرنا اور کھانے کے دوسرے طریقوں کو نا جائز سمجھنا منع ہے۔کیونکہ آہستہ آہستہ انسان یہاں تک تتبع کرتا ہے کہ ان کی طرح طہارت بھی چھوڑ دیتا ہے۔مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ سے یہی مراد ہے کہ التزاما ان باتوں کو نہ کرے۔ورنہ بعض وقت جائز صورت کے لحاظ سے کر لینا منع نہیں ہے۔میں خود بعض وقت میز پر کھانا رکھ لیتا ہوں جب کام کی کثرت ہوتی ہے اور میں لکھتا ہوتا ہوں اور ایسا ہی کبھی چٹائی پر کبھی چار پائی پر بھی کھا تا ہوں۔تشبہ کے معنی یہی ہیں کہ اس لکیر کو لازم پکڑ لیا جاوے ورنہ ہمارے دین کی سادگی پر غیر اقوام نے بھی رشک کھایا اور انگریزوں نے بھی تعریف کی ہے۔اور اکثر اصول ان لوگوں نے عرب سے لے کر اختیار کئے تھے مگر اب رسم پرستی کے طور پر مجبور ہیں کہ ترک نہیں کر سکتے۔" ه الحکم نمبر 3 جلد 7 مؤرخہ 24 جنوری 1903 صفحہ 13 )