فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 220
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 220 (۲۷۹) زندگی کا بیمہ کرانا منع ہے ایک دوست کا خط حضرت کی خدمت میں پیش ہوا جس میں لکھا تھا۔ بحضور جناب مسیح موعود و مهدی مسعود علیہ السلام مارچ ۱۹۰۰ ء میں میں نے اپنی زندگی کا بیمہ واسطے دو ہزار روپیہ کے کرایا تھا۔ شرائط یہ تھیں کہ اس تاریخ سے تا مرگ میں ۷۶ روپیہ سالانہ بطور چندہ کے ادا کرتا رہوں گا۔ تب دو ہزار روپیہ بعد مرگ کے میرے وارثان کو ملے گا اور زندگی میں یہ روپے لینے کا حقدار نہ ہوں گا ۔ اب تک میں نے تقریباً مبلغ چھ سوروپیہ کے بیمہ کرنے والی کمپنی کو دیدیا ہے۔ اب اگر میں اس بیمہ کو توڑ دوں تو بموجب شرائط اس کمپنی کے صرف تیسرے حصہ کا حقدار ہوں یعنی دو صد روپیہ ملے گا اور باقی چار صد روپیہ ضائع جائے گا۔ مگر چونکہ میں نے آپ کے ہاتھ پر اس شرط کی بیعت کی ہوئی ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا اس واسطے بعد اس مسئلہ کے معلوم ہو جانے کے میں ایسی حرکت کا مرتکب ہونا نہیں چاہتا جو خدا اور اس کے اد رسول کے احکام کے برخلاف ہو اور آپ حکم اور عدل ہیں۔ اس واسطے نہایت عجز سے ملتی ہوں کہ جیسا مناسب حکم ہو صادر فرمایا جاوے تا کہ اس کی تعمیل کی جاوے۔ اس کے جواب میں حضرت نے فرمایا کہ:۔ " زندگی کا بیمہ جس طرح رائج ہے اور سنا جاتا ہے اس کے جواز کی ہم کوئی صورت بظاہر نہیں دیکھتے کیونکہ یہ ایک قمار بازی ہے۔ اگر چہ وہ بہت سا روپیہ خرچ کر چکے ہیں لیکن اگر وہ جاری رکھیں گے تو یہ رو پیدان سے اور بھی زیادہ گناہ کرائے گا۔ ان کو چاہئے کہ آئندہ زندگی گناہ سے بچنے کے واسطے اس کو ترک کر دیویں اور جتنا رو پیداب مل سکتا ہے وہ واپس لے لیں ۔ " فرمایا:۔ البدر نمبر 14 جلد 7 مؤرخہ 9 اپریل 1908ء صفحہ 3) (۲۸۰) رشوت رشوت ہر گز نہیں دینی چاہئے یہ سخت گناہ ہے۔ مگر میں رشوت کی یہ تعریف کرتا ہوں کہ جس سے