فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 216

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 216 اور ان کو ہلاکت تک نہ پہنچائے اور سب سے پہلے مکھیوں کے فنا کرنے میں مصروف ہو تو اس کا کیا حال ہوگا۔اس سائل کو لکھنا چاہئے کہ تم پہلے اپنے ایمان کا فکر کرو اور دو چار ماہ کے واسطے یہاں آ کر ٹھہر و تا کہ تمہارے دل و دماغ میں روشنی پیدا ہو اور ایسے خیالات میں نہ پڑو۔" الحکم نمبر 17 جلد 6 مؤرخہ 10 مئی 1902ء صفحہ 11) سود کی بابت پوچھا گیا کہ بعض مجبوریات لاحق حال ہو جاتے ہیں۔فرمایا کہ:۔" اس کا فتویٰ ہم نہیں دے سکتے۔یہ بہر حال ناجائز ہے۔ایک طرح کا سود اسلام میں جائز ہے یہ کہ قرضہ دیتے وقت کوئی شرط وغیرہ کسی قسم کی نہ ہو اور مقروض جب قرضہ ادا کرے تو مروت کے طور پر اپنی طرف سے کچھ زیادہ دید یوے۔آنحضرت علی اللہ ایسا ہی کیا کرتے۔اگر دس روپیہ قرض لئے تو ادائیگی کے وقت ایک سو تک دید یا کرتے۔سود حرام وہی ہے جس میں عہد معاہدہ اور شرائط اول ہی کر لی جاویں۔" البدر نمبر 32 جلد 3 مؤرخہ 24 را گست 1904 ء صفحه 8 (۲۷۶) پیشگی وصولی قیمت اخبار کم کی جاوے اخبار کی قیمت اگر پیشگی وصول کی جاوے تو اخبار کے چلانے میں سہولت ہوتی ہے جو لوگ پیشگی قیمت نہیں دیتے اور بعد کے وعدے کرتے ہیں ان میں سے بعض تو صرف وعدوں پر ہی ٹال دیتے ہیں اور بعض کی قیمتوں کی وصولی کیلئے بار بار کی خط و کتابت میں اور ان سے قیمتیں لینے کے واسطے یادداشتوں کے رکھنے میں اس قدر وقت ہوتی ہے کہ اس زائد محنت اور نقصان کو کسی حد تک کم کرنے کے واسطے اور نیز اس کا معاوضہ وصول کرنے کے واسطے اخبار بدر کی قیمت مابعد کے نرخ میں ایک روپیہ زائد کیا گیا ہے۔یعنی ما بعد دینے والوں سے قیمت اخبار بجائے تین روپے کے چار روپے وصول کئے جائیں گے۔اس پر ایک دوست لائل پور نے دریافت کیا ہے کہ کیا یہ صورت سود کی تو نہیں ہے؟ چونکہ یہ مسئلہ شرعی تھا اس واسطے مندرجہ بالا وجوہات کے ساتھ حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کیا گیا۔اس کا جواب جو حضرت نے لکھا۔وہ درج ذیل کیا جاتا ہے:۔السلام علیکم۔میرے نزدیک اس سے سود کو کچھ تعلق نہیں ما لک کا اختیار ہے جو چاہے قیمت طلب