فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 9

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 9 طرح ہو سکتا ہے؟ قرآن شریف مقبول فریقین ہے اور حدیث مقبول فریقین نہیں ہے۔ہم یہ بھی پوچھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ نے جس قدر اہتمام قرآن شریف کے لکھانے کا کیا ہے احادیث کا کہاں کیا ہے؟ اور علاوہ بریں کوئی حدیث ہی ہم کو دکھاؤ جس میں آپ نے پیشگوئی کی ہو کہ میرے بعد فلاں فلاں شخص آئے گا اور وہ احادیث کو جمع کرے گا۔حدیث اور ہم ہمارا مذ ہب اور اعتقاد حدیث کے متعلق یہ ہے کہ ہم ہر حدیث کو جو قرآن شریف سے معارض اور سنت کے مخالف نہ ہو مانتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس پر عمل کریں خواہ وہ محدثین کے نزدیک ضعیف سے ضعیف بھی ہو۔اصل میں یہ تین چیزیں ہیں جو میں نے کئی بار بیان کی ہیں۔" فرمایا:۔الحکم نمبر 41 جلد 6 مؤرخہ 17 نومبر 1902ء صفحہ 2,1) (۶) خلاف قرآن حدیث "ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن اور سنت نہ ہو تو خواہ کیسی ہی ادنیٰ درجہ کی حدیث ہو اس پر وہ عمل کریں اور انسان کے بنائے ہوئے فقہ پر اس کو ترجیح دیں اور اگر حدیث میں کوئی مسئلہ نہ ملے اور نہ سنت میں اور نہ قرآن میں مل سکے تو اس صورت میں فقہ حنفی پر عمل کرلیں کیونکہ اس فرقہ کی کثرت خدا کے ارادہ پر دلالت کرتی ہے اور اگر بعض موجودہ تغیرات کی وجہ سے فقہ حنفی کوئی صحیح فتویٰ نہ دے سکے تو اس صورت میں علماء اس سلسلہ کے اپنے خدا داد اجتہاد سے کام لیں۔لیکن ہوشیار رہیں کہ مولوی عبد اللہ چکڑالوی کی طرح بے وجہ احادیث سے انکار نہ کریں۔ہاں جہاں قرآن اور سنت سے کسی حدیث کو معارض پاویں تو اس حدیث کو چھوڑ دیں۔" الحکم نمبر 43 جلد 6 مؤرخہ 30 نومبر 1902 ، صفحہ 9 فرمایا:۔(۷) حدیث کے متعلق مذہب "حدیث کے متعلق ہمارا مذ ہب ہے کہ ادنیٰ سے ادنی بھی ہو تو اس پر عمل کر لیا جاوے جب تک کہ