فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 207

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 207 ہے وہ گویا خدا کے ساتھ لڑائی کی تیاری کرتا ہے۔ایمان ہو تو اس کا صلہ خدا بخشتا ہے۔ایمان بڑی بابرکت شے ہے اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔اگر اسے خیال ہو کہ پھر کیا کرے تو کیا خدا کا حکم بھی بیکا ر ہے۔اس کی قدرت بہت بڑی ہے۔سود تو کوئی شے ہی نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا کہ زمین کا پانی نہ پیا کرو تو وہ ہمیشہ بارش کا پانی آسمان سے دیا کرتا۔اسی طرح ضرورت پر وہ خود ایسی راہ نکال ہی دیتا ہے کہ جس سے اس کی نافرمانی بھی نہ ہو۔جب تک ایمان میں میل کچیل ہوتا ہے تب تک یہ ضعف اور کمزوری ہے۔کوئی گناہ چھوٹ نہیں سکتا جب تک خدا نہ چھڑوائے ورنہ انسان تو ہر ایک گناہ پر یہ عذر پیش کر سکتا ہے کہ ہم چھوڑ نہیں سکتے۔اگر چھوڑیں تو گزارہ نہیں چلتا۔دکانداروں، عطاروں کو دیکھا جاوے کہ پرانا مال سالہا سال تک بیچتے ہیں، دھوکا دیتے ہیں۔ملازم پیشہ لوگ رشوت خوری کرتے ہیں اور سب یہ عذر کرتے ہیں کہ گزارہ نہیں چلتا۔ان سب کو اگر اکٹھا کر کے نتیجہ نکالا جاوے تو پھر یہ نکلتا ہے کہ خدا کی کتاب پر عمل ہی نہ کرو کیونکہ گزارہ نہیں چلتا۔حالانکہ مومن کیلئے خدا خود سہولت کر دیتا ہے۔یہ تمام راستبازوں کا مجرب علاج ہے کہ مصیبت اور صعوبت میں خدا خود راہ نکال دیتا ہے۔لوگ خدا کی قدر نہیں کرتے۔جیسے بھروسہ ان کو حرام کے دروازے پر ہے ویسا خدا پر نہیں۔خدا پر ایمان یہ ایک ایسا نسخہ ہے کہ اگر قدر ہو تو جی چاہے کہ جیسے اور عجیب نسخہ مخفی رکھنا چاہتے ہیں ویسے ہی اسے بھی مخفی رکھا جاوے۔" البدر نمبر 10 جلد 2 مؤرخہ 27 / مارچ 1903 ء صفحہ 75) (۲۷۰) فتوی در باب سود بینک شیخ نور احمد صاحب نے بینک کے سود کے متعلق تذکرہ کیا کہ بینک والے ضرور سود دیتے ہیں۔پھر اسے کیا کیا جاوے؟ اس پر فرمایا:۔" ہمارا یہی مذہب ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ہمارے دل میں ڈالا ہے کہ ایسا روپیہ اشاعت دین کے کام میں خرچ کیا جاوے۔یہ بالکل سچ ہے کہ سود حرام ہے لیکن اپنے نفس کے واسطے۔اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں جو چیز جاتی ہے وہ حرام نہیں رہ سکتی ہے کیونکہ حرمت اشیاء کی انسان کیلئے ہے نہ اللہ تعالیٰ کے